تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 150
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۰ سورۃ الانعام تمام نبیوں کو جو ہدایتیں ملی تھیں اُن سب کا اقتدا کر۔پس ظاہر ہے کہ جو شخص ان تمام متفرق ہدایتوں کو اپنے اندر جمع کرے گا اس کا وجود ایک جامع وجود ہو جائے گا اور تمام نبیوں سے وہ افضل ہوگا پھر جو شخص اس نبی جامع الکمالات کی پیروی کرے گا ضرور ہے کہ خلقی طور پر وہ بھی جامع الکمالات ہو۔چشمه مسیحی، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۸۱) 10 وو یہ جو قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ : فَبِها هُمُ اقتده پس ان کی یعنی گذشتہ نبیوں کی جن کا اوپر ذکر آیا ہے اقتدا کر۔اس آیت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔اس کا یہ مطلب ہے کہ جس قدر گذشتہ انبیاء ہوئے انہوں نے مخلوق کی ہدایت مختلف پہلوؤں سے کی اور مختلف قسم کی ان میں خوبیاں تھیں۔کسی میں کوئی خوبی اور کمال تھا اور کسی میں کوئی اور ان تمام نبیوں کی اقتدا کرنا یہ معنے رکھتا ہے کہ ان تمام متفرق خوبیوں کو اپنے اندر جمع کر لینا چاہیے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ جو شخص جامع ان تمام خوبیوں کا ہے جو متفرق طور پر تمام انبیاء سے افضل ہیں کیونکہ ہر ایک کی خوبی اس میں موجود ہے اور وہ تمام متفرق خوبیوں کا جامع ہے مگر پہلے اس سے کوئی نبی ان تمام خوبیوں کا جامع نہ تھا۔( بدر جلد ۴ نمبر ۳۲ مورخه ۲۱ رستمبر ۱۹۰۵ء صفحه ۲) وو اللہ تعالی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا ہے کہ فَبِهُدهُم اقتدی ان کی ہدایت کی پیروی کر یعنی تمام گذشتہ انبیا کے کمالات متفرقہ کو اپنے اندر جمع کر لے۔یہ آیت حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی فضیلت کا اظہار کرتی ہے۔تمام گذشتہ نبیوں اور ولیوں میں جس قدر خوبیاں اور صفات اور کمال تھے وہ سب کے سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیئے گئے تھے۔سب کی ہدائیتوں کا اقتدا کر کے آپ جامع تمام کمالات کے ہو گئے مگر جامع بننے کے لیے ضروری ہے کہ انسان متکبر نہ ہو۔جو سمجھتا ہے کہ میں نے سب کچھ سمجھ لیا ہے وہ ٹھوکر کھاتا ہے۔خاکساری سے زندگی بسر کرنی چاہیے۔جہاں انسان کوئی فائدہ کی بات دیکھے چاہیے کہ اسی جگہ سے فائدہ حاصل کرے۔( بدر جلد نمبر ۳۳ مورخه ۶ / نومبر ۱۹۰۵ء صفحه ۲) یہ امر جو ہے کہ تو سب کی اقتدا کر یہ امر بھی خلقی اور کوئی ہے یعنی تیری فطرت کو حکم دیا کہ وہ کمالات جو جمیع انبیاء علیہم السلام میں متفرق طور پر موجود تھے اس میں یکجائی طور پر موجود ہوں اور گویا اس کے ساتھ ہی وہ کمالات اور خو بیاں آپ کی ذات میں جمع ہو گئیں۔(احکام جلد ۷ نمبر ۸ مورخه ۲۸ فروری ۱۹۰۳ صفحه ۳)