تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 124
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۴ سورة الانعام کبھی سفر عجائبات دنیا کے دیکھنے کے لیے بھی ہوتا ہے جس کی طرف آیت کریمہ: قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ اشارہ فرما رہی ہے اور کبھی سفر صادقین کی صحبت میں رہنے کی غرض سے جس کی طرف آیت کریمہ: یاتھا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَكُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ (التوبة : ١١٩) ہدایت فرماتی ہے اور کبھی سفر عیادت کے لیے بلکہ اتباع خیار کے لیے بھی ہوتا ہے اور کبھی بیمار یا بیمار دار علاج کرانے کی غرض سے سفر کرتا ہے اور کبھی کسی مقدمہ عدالت یا تجارت وغیرہ کے لیے بھی سفر کیا جاتا ہے اور یہ تمام قسم سفر کی قرآن کریم اور احادیث نبویہ کے رو سے جائز ہیں۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۰۷ ) وَإِن يَمْسَسْكَ اللهُ بِضُرٍ فَلَا كَاشِفَ لَةَ إِلَّا هُوَ وَإِن يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اگر تجھے کوئی تکلیف پہنچے تو بجز خدا اور کوئی تیرا یار نہیں کہ اس تکلیف کو دور کرے اور اگر تجھے کچھ بھلائی پہنچے تو ہر یک بھلائی کے پہنچانے پر خدا قادر ہے۔کوئی دوسرا نہیں۔ہے۔بران احمد یہ چہار تحصص، روحانی خزائن جلد اصفحه ۵۲۱، ۵۲۲ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ اس کا تمام بندوں پر تسلط اور تصرف ہے اور وہی صاحب حکمت کا ملہ اور ہر یک چیز کی حقیقت سے آگاہ ( براہینِ احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۲۲ حاشیه در حاشیه نمبر ۳)۔قف قُلْ أَى شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةٌ قُلِ اللهُ شَهِيدٌ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَ أُوحِيَ إِلَى هذَا الْقُرْآنُ لِأَنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ - اَبِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ اَنَّ مَعَ اللَّهِ الهَةً أُخْرَى قُل لاَ اَشْهَدُ قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلهُ وَاحِدٌ وَ اِنَّنِي بَرِى مِمَّا تُشْرِكُونَ ) لانْذِرَكُم بِهِ وَ مَنْ بَلَغ یعنی لازمی ہوگا کہ جس کو قرآنی تعلیم پہنچے وہ خواہ کہیں بھی ہو اور کوئی بھی ہو۔اس تعلیم کی پیروی کو اپنی گردن پر اُٹھائے۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۱ مورخہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۰۸ صفحہ ۷ ) م الَّذِينَ اتَيْنَهُمُ الْكِتَبَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَ هُمُ الَّذِينَ خَسِرُوا ا۔