تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 121
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۱ سورة المائدة گے کہ میں جب تک دنیا میں تھا تب تو ان کو وحدانیت کا وعظ کرتا تھا بعد کی خبر نہیں انہیں کیا ہو گیا۔قطع نظر اس بات کے کہ وہ اس وقت زمین میں مدفون ہیں یا کہیں آسمان پر بیٹھے ہوئے ہیں اس جگہ یہ امر سب سے زیادہ قابل غور ہے کہ اگر وہ قیامت سے پہلے دنیا میں آئیں گے اور چالیس سال تک رہیں گے اور عیسائیوں کو انہیں اور ان کی ماں کو خدا بنانے کے سبب خوب سزا بھی دیں گے اور پھر ان کی اصلاح بھی کریں گے اور ماننے والوں کو مسلمان بنا ئیں گے تو پھر قیامت کے دن ان کا جواب یہ کیوں ہونا چاہیے کہ مجھے تو کچھ خبر نہیں کہ میرے بعد کیا ہوا اور کیا نہ ہوا بلکہ انہیں تو یہ جواب دینا چاہیے کہ اے باری تعالیٰ ! میں نے تو ان کے ایسے عقیدے کے سبب ان کو خوب سزائیں دی ہیں اور ان کی صلیب کو توڑا ہے اور چالیس سال تک ان کی خوب خبر لی ہے۔سود یکھنا چاہیے کہ اگر مسیح دوبارہ دنیا میں آوے گا تو کیا اس کا یہ جواب جو قرآن شریف میں درج ہے سچا ہوگا اور اگر ان ملانوں کی بات درست مان لی جاوے تو روز قیامت حضرت عیسی کو ایسا جواب دینے سے کیا انعام ملے گا؟ نادان یہ بھی نہیں جانتے کہ ایسی باتیں بنا کر وہ ایک خدا کے نبی کو نعوذ باللہ جھوٹ بولنے والا قرار دے رہے ہیں اور پھر جھوٹ بھی قیامت کے دن اور پھر وہ بھی خدا تعالیٰ کے دربار میں۔نعوذ باللہ من البدر جلد ۶ نمبر ۱۲ مورخه ۲۱ / مارچ ۱۹۰۷ء صفحه ۴) ذالک!