تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 399 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 399

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹۹ سورة النساء جاتا ہے بلکہ اس میں تو کیل وغیر ہ ٹھونک دیا کرتے تھے اور کئی دن رہ کر انسان بھوکا پیاسا مر جاتا تھا۔مسیح کے لیے اس قسم کا واقعہ پیش نہیں آیا وہ صرف دو تین گھنٹہ کے اندر ہی صلیب سے اتار لیے گئے۔یہ تو وہ واقعات ہیں جو انجیل میں موجود ہیں جو مسیح کے صلیب پر نہ مرنے کے لیے زبردست گواہ ہیں۔پھر ایک اور بڑی شہادت ہے جو اس کی تائید میں ہے وہ مرہم عیسی ہے جو طب کی ہزاروں کتابوں میں برابر درج ہے اور اس کے متعلق لکھا گیا ہے کہ یہ مرہم مسیح کے زخموں کے واسطے حواریوں نے طیار کی تھی یہودیوں، عیسائیوں کی طبی کتابوں میں اس مرہم کا ذکر موجود ہے۔پھر یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ صلیب پر مر گئے تھے۔ان سب باتوں کے علاوہ ایک اور امر پیدا ہو گیا ہے جس نے قطعی طور سے ثابت کر دیا ہے کہ مسیح کا صلیب پر مرنا بالکل غلط اور جھوٹ ہے وہ ہرگز ہرگز صلیب پر نہیں مرے اور وہ ہے مسیح کی قبر مسیح کی قبر سرینگر خانیار کے محلہ میں ثابت ہوگئی ہے اور یہ وہ بات ہے جو دنیا کو ایک زلزلہ میں ڈال دے گی کیونکہ اگر مسیح صلیب پر مرے تھے تو یہ قبر کہاں سے آ گئی؟ الحکم جلد ۵ نمبر ۱۹ مورخه ۲۲ مئی ۱۹۰۱ صفحه ۲،۱) سوال کیا گیا کہ مسیح کو صلیب پر چڑھانا قرآن میں کہاں سے ثابت ہوتا ہے؟) فرمایا: وَلكِن شَيْهَ لھم سے یہ واقعہ عیسائیوں اور یہودیوں کے متواترات سے ہے قرآن شریف اس کا انکار کیوں کرنے لگا تھا؟ قرآن یا حدیث صحیح میں کہیں ذکر نہیں ہے کہ مسیح چھت پھاڑ کر آسمان پر چلا گیا یہ صرف خیالی امر ہے کیونکہ اگر مسیح صلیب پر چڑھا یا نہیں گیا اور وہ کوئی اور شخص تھا تو دوصورتوں سے خالی نہیں یا دوست ہوگا یا دشمن پہلی صورت میں مسیح نے اپنے ہاتھ سے ایک دوست کو ملعون بنایا۔جس لعنت سے خود بچنا چاہتا تھا اس کا نشانہ دوست کو بنایا۔یہ کون شریف پسند کر سکتا ہے۔پس وہ حواری تو ہو نہیں سکتا۔اگر دشمن تھا تو چاہیے تھا کہ وہ دہائی دیتا اور شور مچاتا کہ میں تو فلاں شخص ہوں مجھے کیوں صلیب دیتے ہو میری بیوی اور رشتہ داروں کو بلا ؤ میرے فلاں اسرار ان کے ساتھ ہیں تم دریافت کرلو۔غرض اس تواتر کا انکار فضول ہے اور قرآن شریف نے ہر گز اس کا انکار نہیں کیا۔ہاں! یہ سچ ہے کہ قرآن شریف نے تکمیل صلیب کی نفی کی ہے جو لعنت کا موجب ہوتی تھی نفس صلیب پر چڑھائے جانے کی نفی نہیں کی۔اس لیے مَا قَتَلُوهُ کہا اگر یہ مطلب نہ تھا تو پھر مَا قَتَلُوہ کہنا فضول ہو جائے گا یہ ان کے تواترات میں کہاں تھا؟ یہ اس لیے فرمایا کہ صلیب کے ذریعہ قتل نہیں کیا پھر مَا صَلَبُوہ سے اور صراحت کی