تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 263
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۳ سورة ال عمران رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۷۱،۷۰) پتا دیتے ہیں جس کی طرف مذہب اسلام دعوت کرتا ہے۔اس آیت میں کس قدر صاف حکم ہے کہ دانشمندا اپنی دانشوں اور مغزوں سے بھی کام لیں اور جان لیں کہ اسلام کا خدا ایسا گورکھ دھندا نہیں کہ اسے عقل پر پتھر مار کر بجبر منوایا جائے اور صحیفہ فطرت میں کوئی بھی ثبوت اس کے لیے نہ ہو بلکہ فطرت کے وسیع اوراق میں اس کے اس قدر نشانات ہیں جو صاف بتلاتے ہیں کہ وہ ہے۔ایک ایک چیز اس کا ئنات میں اس نشان اور تختہ کی طرح ہے جو ہر سڑک یا گلی کے سر پر اس سڑک یا محلہ یا شہر کا نام معلوم کرنے کے لیے لگائے جاتے ہیں۔خدا کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور اس موجود ہستی کا پتہ ہی نہیں بلکہ مطمئن کر دینے والا ثبوت دیتی ہے زمین و آسمان کی شہادتیں کسی مصنوعی اور بناوٹی خدا کی ہستی کا ثبوت نہیں دیتیں بلکہ اس خدائے اَحد الصَّمَدُ لَم يَلِدْ وَلَمْ يُولد کی ہستی کو دکھاتی ہیں جو زندہ اور قائم خدا ہے اور جسے اسلام پیش کرتا ہے۔طبعی تحقیقا تیں جہاں تک ہوتی چلی جائیں گی وہاں توحید ہی توحید نکلتی چلی جائے گی۔اللہ تعالیٰ اس آيت إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ الآیۃ میں بتلاتا ہے کہ جس خدا کو قرآن پیش کرتا ہے اس کے لیے زمین آسمان دلائل سے بھرے پڑے ہیں۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۷۱) قرآن کریم میں ان لوگوں کو جو عقل سے کام لیتے ہیں اولوالالباب فرمایا ہے۔پھر اس کے آگے فرماتا ہے : الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللهَ فِيمَا وَقُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِهِمُ الآية -۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دوسرا پہلو بیان کیا ہے کہ اولوالالباب اور عقل سلیم بھی وہی رکھتے ہیں جو اللہ جل شانہ کا ذکر اٹھتے بیٹھتے کرتے ہیں۔یہ گمان نہ کرنا چاہیے کہ عقل و دانش ایسی چیزیں ہیں جو یونہی حاصل ہوسکتی ہیں نہیں ! بلکہ سچی فراست اور سچی دانش اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیے بغیر حاصل ہی نہیں ہو سکتی۔اسی واسطے تو کہا گیا ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ نو ر الہی سے دیکھتا ہے۔صحیح فراست اور حقیقی دانش جیسا میں نے ابھی کہا کبھی نصیب نہیں ہو سکتی جب تک تقویٰ میسر نہ ہو اگر تم کامیاب ہونا چاہتے ہو تو عقل سے کام لو، فکر کرو ، سوچو، تدبر اور فکر کے لیے قرآن کریم میں بار بار تاکید میں موجود ہیں۔کتاب مکنون اور قرآن کریم میں فکر کرو اور پارس طبع ہو جاؤ۔جب تمہارے دل پاک ہو جائیں گے اور ادھر عقل سلیم سے کام لو گے اور تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو گے۔پھر ان دونوں کے جوڑ سے وہ حالت پیدا ہو جائے گی کہ : رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذا بَاطِلا سُبُحْنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ تمہارے دل سے نکلے گا۔اس وقت سمجھ میں آجائے گا کہ یہ مخلوق عبث نہیں