تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 453
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۵۳ دیتا ہے کہ مجھ کو شود ملے ورنہ گورنمنٹ جو اپنی طرف سے احسانا دیوے وہ سود میں داخل نہیں ہے۔سورة البقرة (البدر جلد ۲ نمبر ۱۰ مورخه ۲۷ / مارچ ۱۹۰۳ء صفحه ۷۵) انشیو رنس اور بیمہ پر سوال کیا گیا فرمایا۔کہ سُود اور قمار بازی کو الگ کر کے دوسرے اقراروں اور ذمہ داریوں کو شریعت نے صحیح قرار دیا ہے۔قمار بازی میں ذمہ داری نہیں ہوتی ، دنیا کے کاروبار میں ذمہ داری کی ضرورت ہے۔دوسرے ان تمام سوالوں میں اس امر کا خیال بھی رکھنا چاہئے کہ قرآن شریف میں حکم ہے کہ بہت کھوج نکال نکال کر مسائل نہ پوچھنے چاہئیں۔مثلاً اب کوئی دعوت کھانے جاوے تو اب اسی خیال میں لگ جاوے کہ کسی وقت حرام کا پیسہ ان کے گھر آیا ہو گا پھر اس طرح تو آخر کار دعوتوں کا کھانا ہی بند ہو جاوے گا۔خدا کا نام ستار بھی ہے ورنہ دنیا میں عام طور پر راست باز کم ہوتے ہیں، مستور الحال بہت ہوتے ہیں یہ بھی قرآن میں لکھا ہے : وَلا تَجَسَّسُوا (الحجرات : ۱۳) یعنی تجسس مت کیا کرو ورنہ اس طرح تم مشقت میں البدر جلد ۲ نمبر ۱۰ مورخہ ۲۷ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۷۶ ) پڑوگے۔سود کی بابت پوچھا گیا کہ بعض مجبور یاں لاحق حال ہو جاتی ہیں۔فرمایا: اس کا فتویٰ ہم نہیں دے سکتے۔یہ بہر حال ناجائز ہے۔ایک طرح کا سُود اسلام میں جائز ہے یہ کہ قرض دیتے وقت کوئی شرط وغیرہ کسی قسم کی نہ ہو اور مقروض جب قرضہ ادا کرے تو مروت کے طور پر اپنی طرف سے کچھ زیادہ دے دیوے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے۔اگر دس روپیہ قرض لئے تو ادائیگی کے وقت ایک سو تک دے دیا کرتے۔خود حرام وہی ہے جس میں عہد معاہدہ اور شرائط اول ہی کر لی البدر جلد ۳ نمبر ۳۲ مورخه ۲۴ اگست ۱۹۰۴ ء صفحه ۸) جاویں۔بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ سُود لینے کے بغیر ہمارا گزارا نہیں ہو سکتا۔ایسے لوگ کیوں کر متقی کہلا سکتے ہیں خدا تعالیٰ تو وعدہ کرتا ہے کہ میں متقی کو ہر ایک مشکل سے نکالوں گا اور ایسے طور سے رزق دوں گا جو گمان اور وہم میں بھی نہ آسکے۔(البدرجلد ۳ نمبر ۲۵ مورخہ یکم جولائی ۱۹۰۴ صفحه ۵) حضرت حکیم نورالدین صاحب نے ایک مسئلہ حضرت اقدس سے دریافت کیا کہ یہ ایک شخص ہیں جن کے پاس میں بائیس ہزار کے قریب روپیہ موجود ہے۔ایک سکھ ہے وہ ان کا روپیہ تجارت میں استعمال کرنا چاہتا ہے اور ان کے اطمینان کے لئے اس نے تجویز کی ہے کہ یہ روپیہ بھی اپنے قبضہ میں رکھیں۔لیکن جس طرح وہ ہدایت کرے اسی طرح ہر ایک شے خرید کر جہاں کہے وہاں روانہ کریں اور جو روپیہ آ وے وہ امانت رہے۔