تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 437
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۴۳۷ سورة البقرة الْعِظَامِ كَيْفَ نُنَشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًا فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ قَالَ اَعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (٢٦٠ عزیز کے فوت ہونے اور پھر سو برس کے بعد زندہ ہونے کی جنت جو پیش کی گئی ہے یہ محنت مخالف کے یہ لئے کچھ مفید نہیں ہے کیونکہ ہر گز بیان نہیں کیا گیا کہ عزیز کو زندہ کر کے پھر دنیا کے دارالہجوم میں بھیجا گیا تا یہ فساد لازم آوے کہ وہ بہشت سے نکالا گیا بلکہ اگر ان آیات کو اُن کے ظاہری معانی پر محمول کیا جاوے تو صرف یہ ثابت ہوگا کہ خدائے تعالیٰ کے کرشمہ قدرت نے ایک لمحہ کے لئے عزیز کو زندہ کر کے دکھلا دیا تا اپنی قدرت پر اس کو یقین دلا دے۔مگر وہ دنیا میں آنا صرف عارضی تھا اور دراصل عزیز بہشت میں ہی موجود تھا۔جانا چاہئے ! کہ تمام انبیاء اور صدیق مرنے کے بعد پھر زندہ ہو جاتے ہیں اور ایک نورانی جسم بھی انہیں عطا کیا جاتا ہے اور کبھی کبھی بیداری میں راستبازوں سے ملاقات بھی کرتے ہیں۔چنانچہ اس بارہ میں یہ عاجز خود صاحب تجربہ ہے۔پھر اگر عزیز کو خدائے تعالیٰ نے اسی طرح زندہ کر دیا ہو تو تعجب کیا ہے؟ لیکن اس زندگی سے یہ نتیجہ نکالنا کہ وہ زندہ ہو کر بہشت سے خارج کئے گئے یہ عجب طور کی نادانی ہے بلکہ اس زندگی سے تو بہشت کی تجلی زیادہ تر بڑھ جاتی ہے۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۸۸،۲۸۷) قرآن اور حدیث دونوں بالاتفاق اس بات پر شاہد ہیں کہ جو شخص مر گیا پھر دنیا میں ہر گز نہیں آئے گا اور قرآن کریم أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ (الانبیاء :۹۶) کہہ کر ہمیشہ کے لئے اس دنیا سے اُن کو رخصت کرتا ہے۔اور قصہ عزیر وغیرہ جو قرآن کریم میں ہے اس بات کے مخالف نہیں کیونکہ لغت میں موت بمعنی کوم اور غشی بھی آیا ہے، دیکھو! قاموس۔اور جو عزیز کے قصہ میں ہڈیوں پر گوشت چڑھانے کا ذکر ہے وہ حقیقت میں ایک الگ بیان ہے جس میں یہ جتلانا منظور ہے کہ رحم میں خدائے تعالیٰ ایک مُردہ کو زندہ کرتا ہے اور اس کی ہڈیوں پر گوشت چڑھا تا ہے اور پھر اس میں جان ڈالتا ہے، ماسوا اس کے کسی آیت یا حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوسکتا کہ عزیز دوبارہ زندہ ہو کر پھر بھی فوت ہوا۔پس اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ عزیز کی زندگی دوم، دنیوی زندگی نہیں تھی ورنہ بعد اس کے ضرور کہیں اس کی موت کا بھی ذکر ہوتا۔ایسا ہی قرآن کریم میں جو بعض لوگوں کی دوبارہ زندگی لکھی ہے وہ بھی دنیوی زندگی نہیں۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۵۹) مسیح علیہ السلام کی وفات کے منکر اپنے دلائل میں حضرت عزیز کی زندگی کا سوال پیش کرتے ہیں کہ وہ