تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 345
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۵ سورة البقرة والصدقِ وَالصَّيرِ لِدفْعِ الطَّرَاء وَإِن طرف متوجہ ہو۔یقیناً اولیاء اللہ جب اپنے رب کی طرف أَوْلِيَاء الله إذَا تَوَجهُوا إلى ربهم لدفع تفرع اور ابتبال کے ساتھ متوجہ ہوتے ہیں۔تاکہ کسی مُؤذِ بِالتَّصَرع و الابيالِ، جَرَتْ عَادَةُ موذی چیز کو دُور کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کی عادت اس طرح اللهِ أَنَّهُ يَسْمَعُ دُعَاءَ هُمْ وَلَوْ بَعْدَ سے جاری ہے کہ وہ ان کی دُعاؤں کو بہر حال سنتا ہے۔خواہ حِينٍ أَوْ فِي الْحَالِ، وَتَوَجَّهَتِ الْعِنَايَةُ فوراً، خواہ کچھ عرصہ بعد۔خدائے صمد کی توجہ اس بلا اور وبال الصَّمَدِيَّةُ لِيَدْفَعَ مَا نَزَلَ بِهِم مِن کے دور کرنے کی طرف متوجہ ہوتی ہے جو خدا کے نیک الْبَلاءِ وَالْوَبَالِ بَعْدَ مَا أَقْبَلُوا عَلَى بندوں پر نازل ہوتی ہے۔یہ بات اس وقت ہوتی ہے الله كُلّ الإِقْبَالِ، وَإِنَّ أَعْظَمَ جب وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف پوری طرح متوجہ ہو جاتے الْكَرَامَاتِ اِسْتِجَابَةُ الدَّعَوَاتِ، عِنْدَ ہیں۔سب سے بڑی کرامت آفات کے اترنے کے وقت حُلُولِ الْآفَاتِ۔قبولیت دعا ہی ہے۔۔۔۔قيل ما معنى الدُّعَاءِ بَعْدَ قَدَر اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ تقدیر مبرم کے بعد اور نہ رو ہونے مَعْنَى لا يُرَةُ، وَقَضَاءٍ لَّا يُصَلُّ: فَاعْلَمْ أَنَّ هذا والی قضاء کے بعد دُعا کے کیا معنے ہیں؟ تو جانا چاہئے کہ یہ راز ایسا الشر مَوْرٌ تَضِلُّ بِهِ الْعُقُولُ وَيَخْتَالُ راستہ ہے جہاں عقلیں بھٹک جاتی ہیں اور راہ زن اس پر راہ فِيْه الْغُولُ، وَلَا يَبْلُغُهُ إِلَّا مَنْ يَتُوبُ زنی کرتے ہیں اور اس راستے پر وہ ہی منزل مقصود تک پہنچتا ہے وَمِن التّوْبَةِ يَذُوبُ۔۔۔۔جو حقیقی تو بہ کرتا ہے اور تو بہ سے گداز ہوتا ہے۔فَمَنْ أَرْهَفَ أُذُنَه يسمع هذه پس جو شخص میرے بیان کردہ حقائق پر کان دھرتا ہے اور الْحَقَائِقِ، وَحَفَدَ إِلَيْنَا كَاللَّهِيفِ دردمند شوق رکھنے والے انسان کی طرح ہماری طرف آتا ہے۔الشَّائِقِ ، فَسَأَخْفِرُهُ بمَا يَسْرُوْ رِيبَتَه۔میں اس کا محافظ بنوں گا اور اس کی حفاظت ایسی باتوں سے کروں وَيَمْلاً عَيْبَتَهُ، وَهُوَ أَنَّ اللهَ جَعَلَ بَعْضَ گا۔جو اس کے شکوک و شبہات کو دور کر دیں گی۔اور اس کے الْأَشْيَاءِ مُعَلَّقًا بِبَعْضِهَا مِنَ الْقَدِيمِ، روحانی خزانوں کو بھر دیں گی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قدیم سے وَكَذَالِكَ عَلَّقَ قَدْرَهُ بِدَعْوَةِ الْمُضْطَرِ بعض چیزوں کو بعض چیزوں سے وابستہ کر رکھا ہے۔اسی طرح الْأَلِيمِ۔فَمَنْ نَهَضَ مُهَرُولًا إلى حَضْرَةِ الله تعالى نے اپنی تقدیر کو مضطر اور دکھی انسان کی دُعا سے وابستہ الْعِزَّةِ بِعَبَرَاتٍ مُتَحَذِدَةٍ وَ دُمُوعِ کیا ہے۔پس جو شخص دوڑتے ہوئے بارگاہ عزت میں پہنچتا