تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 332 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 332

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۲ سورة البقرة ساتھ گر جاؤ کیونکہ یہی استقامت ہے۔اس وقت دُعا میں، قبولیت نماز میں لذت پیدا ہوگی۔ذلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ۔(حضرت اقدس کی ایک تقریر اور مسئلہ وحدت الوجود پر ایک خط صفحه ۲۱،۲۰ بار چهارم مطبوعه اگست ۱۹۲۴ء) حدیث میں آیا ہے کہ قبل از وقت دُعا قبول ہوتی ہے۔خوف و خطر میں جب انسان مبتلا ہوتا ہے تو ایسے وقت میں تو ہر شخص دُعا اور رجوع کر سکتا ہے۔سعادت مند وہی ہے جو امن کے وقت دُعا کرے۔الانذار صفحه ۱۶ مطبوعہ دسمبر ۱۹۳۶ء) دُعا کے بعد جلدی جواب ملے تو عموماً اچھا نہیں ہوتا توقف کامیابی کا موجب ہوتا ہے۔الحکم جلد ۳ نمبر ۲۰ مورخه ۹ / جون ۱۸۹۹ صفحه ۱) وحی کے سلسلہ سے شوق اور محبت بڑھتی ہے۔لیکن مفارقت میں بھی ایک کشش ہوتی ہے جو محبت کے مدارج عالیہ پر پہنچاتی ہے اللہ تعالیٰ نے اس کو بھی ایک ذریعہ قرار دیا ہے کیونکہ اس سے قلق اور کرب میں ترقی ہوتی ہے اور روح میں ایک بے قراری اور اضطراب پیدا ہوتا ہے جس سے وہ دُعاوں کی روح اس میں نفخ کی جاتی ہے کہ وہ آستانہ الوہیت پر یارب ! یا رب ! کہہ کر اور بڑے جوش اور شوق کے جذبہ کے ساتھ دوڑتی ہے۔جیسا کہ ایک بچہ جو تھوڑی دیر کے لئے ماں کی چھاتیوں سے الگ رکھا گیا ہو بے اختیار ہو ہو کر ماں کی طرف دوڑتا اور چلاتا ہے اسی طرح پر بلکہ اس سے بھی بے حد اضطراب کے ساتھ روح اللہ کی طرف دوڑتی ہے اور اس دوڑ دھوپ اور قلق و کرب میں وہ لذت اور سرور ہوتا ہے جس کو ہم بیان نہیں کر سکتے یا درکھوا روح میں جس قدر اضطراب اور بیقراری خدا تعالیٰ کے لئے ہوگی اسی قدر دُعاؤں کی توفیق ملے گی اور ان میں قبولیت کا نفخ ہوگا۔الحکم جلد ۵ نمبر ۲۱ مورخه ۱۰رجون ۱۹۰۱ صفحه ۴) قبولیت دعا کے واسطے چار شرطوں کا ہونا ضروری ہے تب کسی کے واسطے دُعا قبول ہوتی ہے۔شرط اول یہ ہے کہ اتقا ہو یعنی جس سے دعا کرائی جاوے وہ دُعا کرنے والا متقی ہو۔۔۔۔دوسری شرط قبولیتِ دعا کے واسطے یہ ہے کہ جس کے واسطے انسان دُعا کرتا ہواُس کے لئے دل میں درد ہو اَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ النَّمل : ٢٣) - تیسری شرط یہ ہے کہ وقت اصلی میسر آوے ایسا وقت کہ بندہ اور اس کے رب میں کچھ حائل نہ ہو۔۔۔چوتھی شرط یہ ہے کہ پوری مدت دُعا کی حاصل ہو یہاں تک کہ خواب یا وحی سے اللہ تعالی خبر دے۔محبت و اخلاص والے کو جلدی نہیں چاہئے بلکہ صبر کے ساتھ انتظار کرنا چاہئے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۳۲ مورخه ۳۱ / اگست ۱۹۰۱ صفحه ۱۳، ۱۴)