تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 258 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 258

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۸ سورة البقرة صاف صاف طور پر بشارت دیتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بصیرت کا ملہ کے ساتھ اپنی نبوت پر یقین تھا اور عظیم الشان نشان ان کو دکھلائے گئے تھے۔اب خلاصہ جواب یہ ہے کہ تمام قرآن شریف میں ایک نقطہ یا ایک شعشہ اس بات پر دلالت کرنے والا نہیں پاؤ گے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی نبوت یا قرآن شریف کے منجانب اللہ ہونے کی نسبت کچھ شک تھا بلکہ یقینی اور قطعی بات ہے کہ جس قدر یقین کامل و بصیرت کامل و معرفت اکمل کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات بابرکات کی نسبت دعوی کیا ہے اور پھر اُس کا ثبوت دیا ہے ایسا کامل ثبوت کسی دوسری موجودہ کتاب میں ہرگز نہیں پایا جاتا۔فَهَلْ مَنْ يَسْمَعُ فَيُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَكُونُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ الْمُخْلِصِينَ۔واضح رہے کہ انجیلوں میں حضرت مسیح کے بعض اقوال ایسے بیان کئے گئے ہیں جن پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح اپنی عمر کے آخری دنوں میں اپنی نبوت اور اپنے موید من اللہ ہونے کی نسبت کچھ شبہات میں پڑ گئے تھے جیسا کہ یہ کلمہ کہ گویا آخری دم کا کلمہ تھا یعنی ایلی ایلی لما سبقتنی۔جس کے معنے یہ ہیں کہ اے میرے خدا! اے میرے خدا! تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔عین دنیا سے رخصت ہونے کے وقت میں کہ جو اہل اللہ کے یقین اور ایمان کے انوار ظاہر ہونے کا وقت ہوتا ہے آنجناب کے منہ سے نکل گیا۔پھر آپ کا یہ بھی طریق تھا کہ دشمنوں کے بد ارادہ کا احساس کر کے اُس جگہ سے بھاگ جایا کرتے تھے حالانکہ خدائے تعالیٰ سے محفوظ رہنے کا وعدہ پاچکے تھے ان دونوں امور سے شک اور تحیر ظاہر ہے پھر آپ کا تمام رات رو رو کر ایسے امر کے لئے (دُعا کرنا) جس کا انجام بد آپ کو پہلے سے معلوم تھا بجز اس کے کیا معنے رکھتا ہے کہ ہر ایک بات میں آپ کو شک ہی شک تھا۔یہ باتیں صرف عیسائیوں کے اس اعتراض اٹھانے کی غرض سے لکھی گئی ہیں ورنہ ان سوالات کا جواب ہم تو احسن طریق سے دے سکتے ہیں اور اپنے پیارے مسیح کے سر سے جو بشری ناتوانیوں اور ضعفوں سے مستثنی نہیں تھے ان تمام الزامات کو صرف ایک نفی الوہیت و اہنیت سے ایک طرفۃ العین میں اُٹھا سکتے ہیں مگر ہمارے عیسائی بھائیوں کو بہت دقت پیش آئے گی۔ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۲۱ ۴ تا ۴۲۷) عرصہ قریبا تین برس کا ہوا ہے کہ بعض تحریکات کی وجہ سے۔۔۔۔۔خدائے تعالیٰ نے پیشگوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں انجام کار تمہارے