تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 246
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۶ کے مذہب کو بھی اچھا کہنا پڑتا ہے اسی لئے مداہنہ سے مومن کو پر ہیز کرنا چاہئے۔سورة البقرة الحکم جلد ۸ نمبر ۶ مورخه ۱۷ رفروری ۱۹۰۴ صفحه ۳) وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَآمَنَّا وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرهِمَ مُصَلَّى وَعَهِدُنَا إِلَى إِبْرَاهِم وَ إِسْمَعِيلَ أَن طَهَّرَا بَيْتِيَ لِلطَّابِفِينَ وَ الْعَكِفِينَ وَ (۱۲۶) الركع السجود وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْراهِم مُصلِّی۔اور ابراہیم کے مقام سے نماز کی جگہ پکڑو۔اس جگہ مقام ابراہیم سے اطلاق مرضیہ و معامله باللہ مراد ہے یعنی محبت الہیہ اور تفویض اور رضا اور وفا یہی حقیقی مقام ابراہیم کا ہے جو امت محمدیہ کو بطور تبعیت و وراثت عطا ہوتا ہے اور جو شخص قلب ابراہیم پر مخلوق ہے اس کی اتباع بھی اسی میں ہے۔(براہین احمدیہ چہار تصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۰۸ حاشیه در حاشیہ نمبر ۳) تم اپنی نماز گاہ ابراہیم کے قدموں کی جگہ بناؤ یعنی کامل پیروی کرو تا نجات پاؤ۔یہ ابراہیم جو بھیجا گیا تم اپنی عبادتوں اور عقیدوں کو اس کی طرز پر بجالا ؤ اور ہر ایک امر میں اس کے نمونہ پر اپنے تئیں بناؤ۔اربعین نمبر ۳، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۴۲۱،۴۲۰) آیت وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْراهِمَ مُصَلَّی اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب امت محمدیہ میں بہت فرقے ہو جائیں گے تب آخر زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہو گا اور ان سب فرقوں میں وہ فرقہ نجات پائے گا کہ اس ابراہیم کا پیرو ہوگا۔اربعین نمبر ۳، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۴۲۱) اِذْ قَالَ لَهُ رَبُّةَ أَسْلِمُ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ۔میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اپنی جماعت کو وصیت کروں اور یہ بات پہنچا دوں آئندہ ہر ایک کا اختیار ہے کہ وہ اسے سنے یا نہ سنے کہ اگر کوئی نجات چاہتا ہے اور حیات طیبہ اور ابدی زندگی کا طلب گار ہے تو وہ اللہ کے لئے اپنی زندگی وقف کرے اور ہر ایک اس کوشش اور فکر میں لگ جاوے کہ وہ اس درجہ اور مرتبہ کو حاصل کرے کہ کہہ سکے کہ میری زندگی میری موت میری قربانیاں میری نماز میں اللہ ہی کے لئے ہیں اور حضرت ابراہیم کی طرح اس کی روح بول اٹھے اسلمت لرب العلمین جب تک انسان خدا میں کھویا نہیں جاتا خدا میں ہو کر نہیں مرتا وہ نئی زندگی پا نہیں سکتا۔پس تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو تم دیکھتے ہو کہ خدا