تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 181
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۱ سورة البقرة پس جبکہ اللہ تعالیٰ نے خود لفظ اللہ اور یوم آخر کے بتصریح ایسے معنی کر دئے جو اسلام سے مخصوص ہیں تو جو شخص اللہ پر ایمان لائے گا اور یوم آخر پر ایمان لائے گا۔اُس کے لئے یہ لازمی امر ہو گا کہ قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاوے اور کسی کا اختیار نہیں ہے کہ ان معنوں کو بدل ڈالے اور ہم اس بات کے مجاز نہیں ہیں کہ اپنی طرف سے کوئی ایسے معنی ایجاد کریں کہ جو قرآن شریف کے بیان کردہ معنوں سے مغائر اور مخالف ہوں ہم نے اوّل سے آخر تک قرآن شریف کو غور سے دیکھا ہے اور توجہ سے دیکھا اور بار بار دیکھا اور اس کے معانی میں خوب تدیر کیا ہے۔ہمیں بدیہی طور پر یہ معلوم ہوا ہے کہ قرآن شریف میں جس قدر صفات اور افعال الہیہ کا ذکر ہے ان سب صفات کا موصوف اسم اللہ ٹھہرایا گیا ہے۔مثلاً کہا گیا ہے الْحَمدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔ایسا ہی اس قسم کی اور بہت سی آیات ہیں جن میں یہ بیان ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے قرآن اُتارا۔اللہ وہ ہے جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا۔پس جبکہ قرآنی اصطلاح میں اللہ کے مفہوم میں یہ داخل ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا ہے لہذا یہ ضروری ہے کہ جو شخص اللہ پر ایمان لاوے تبھی اُس کا ایمان معتبر اور صحیح سمجھا جائے گا جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاوے۔خدا تعالیٰ نے اس آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ مَنْ آمَنَ بِالرَّحْمنِ يا مَنْ آمَنَ بِالرَّحِيْمِ يَا مَنْ آمَنَ بِالْكَرِيمِ بلکہ یہ فرمایا کہ مَنْ آمَنَ بِالله اور اللہ سے مراد وہ ذات ہے جو تجمع جمیع صفات کاملہ ہے اور ایک عظیم الشان صفت اُس کی یہ ہے کہ اُس نے قرآن شریف کو اُتارا۔اس صورت میں ہم صرف ایسے شخص کی نسبت کہہ سکتے ہیں کہ وہ اللہ پر ایمان لایا جبکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لایا ہو اور قرآن شریف پر بھی ایمان لایا ہوا گر کوئی کہے کہ پھر اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا کے کیا معنی ہوئے تو یادر ہے کہ اس کے یہ معنی ہیں کہ جو لوگ محض خدا تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں اُن کا ایمان معتبر نہیں ہے۔جب تک خدا کے رسول پر ایمان نہ لاویں یا جب تک اُس ایمان کو کامل نہ کریں۔اس بات کو یا درکھنا چاہئیے کہ قرآن شریف میں اختلاف نہیں ہے۔پس یہ کیوں کر ہوسکتا ہے کہ صد با آیتوں میں تو خدا تعالیٰ یہ فرماوے کہ صرف توحید کافی نہیں ہے بلکہ اُس کے نبی پر ایمان لانا نجات کے لئے ضروری ہے بجز اس صورت کے کہ کوئی اس نبی سے بیخبر رہا ہو اور پھر کسی ایک آیت میں بر خلاف اس کے یہ بتلاوے کہ صرف توحید سے ہی نجات ہو سکتی ہے۔قرآن شریف