تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 155 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 155

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۵ سورة البقرة سے ہونا ثابت ہے وہ قبول کیا جائے اور جو کچھ آئندہ ثابت ہو اس کے قبول کرنے کے لئے آمادہ رہیں اور بجز امور منافی صفات کمالیہ حضرت باری عزاسمہ سب کاموں پر اس کو قادر سمجھا جائے اور امکانی طور پر سب ممکنات قدرت پر ایمان لایا جائے یہی طریق اہلِ حق ہے جس سے خدائے تعالیٰ کی عظمت و کبریائی قبول کی جاتی ہے اور ایمانی صورت بھی محفوظ رہتی ہے جس پر ثواب پانے کا تمام مدار ہے۔سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۰۳، ۱۰۴) طریق عبودیت یہی ہے کہ سُبحَنَكَ لَا عِلْمَ لَنَا کہنے والوں کے ساتھ ہو۔(رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۹۱) خدا کا نام علیم ہے اور پھر قرآن میں آیا ہے الرَّحْمٰنُ عَلَمَ الْقُرْآنَ (الرحمن : ۲، ۳) اسی لئے ملائکہ نے اقام جلد ۶ نمبر ۲۵ مورخہ ۱۷ار جولائی ۱۹۰۲ صفحه ۲) کہا۔لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَيْتَنَا۔وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَليكةِ اسْجُدُ والأَدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الكفرين (۳۵) انسان کی پیدائش میں دو قسم کے حسن ہیں۔ایک حُسنِ معاملہ اور وہ یہ کہ انسان خدا تعالیٰ کی تمام امانتوں اور عہد کے ادا کرنے میں یہ رعایت رکھے کہ کوئی امر حتی الوسع اُن کے متعلق فوت نہ ہو۔۔۔۔دوسر احسن انسان کی پیدائش میں حُسنِ بشرہ ہے۔اور یہ دونوں حسن اگر چہ رُوحانی اور جسمانی پیدائش درجہ پنجم میں نمودار ہو جاتے ہیں لیکن آب و تاب اُن کی فیضانِ رُوح کے بعد ظاہر ہوتی ہے اور جیسا کہ جسمانی وجود کی رُوح جسمانی قالب طیار ہونے کے بعد جسم میں داخل ہوتی ہے ایسا ہی روحانی وجود کی رُوح روحانی قالب طیار ہونے کے بعد انسان کے رُوحانی وجود میں داخل ہوتی ہے۔یعنی اُس وقت جب کہ انسان شریعت کا تمام جوا اپنی گردن پر لے لیتا ہے اور مشقت اور مجاہدہ کے ساتھ تمام حدود الہیہ کے قبول کرنے کے لئے طیار ہوتا ہے اور ورزش شریعت اور بجا آوری احکام کتاب اللہ سے اس لائق ہو جاتا ہے کہ خُدا کی روحانیت اس کی طرف توجہ فرماوے اور سب سے زیادہ یہ کہ اپنی محبت ذاتیہ سے اپنے تئیں خدا تعالیٰ کی محبت ذاتیہ کا مستحق ٹھہرالیتا ہے جو برف کی طرح سفید اور شہد کی طرح شیریں ہے۔اور جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں وجود روحانی خشوع کی حالت سے شروع ہوتا ہے اور روحانی نشو و نما کے چھٹے مرتبہ پر یعنی اس مرتبہ پر کہ جب کہ رُوحانی قالب