تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 35 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 35

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵ سورة الفاتحة راہ راست پر لانے کے لئے ایک نئی شریعت کی حاجت ہو کہ جو ان کی آفات موجودہ کا بخوبی تدارک کر سکے اور ان کی تاریکی اور ظلمت کو اپنے کامل اور شافی بیان کے نور سے بکلی اٹھا سکے اور جس طور کا علاج حالت فاسدہ زمانہ کے لئے درکار ہے وہ علاج اپنے پر زور بیان سے کر سکے۔لیکن جو مکالمات و مخاطبات اولیاء اللہ کے ساتھ ہوتے ہیں ان کے لئے غالباً اس ضرورت عظمی کا پیش آنا ضروری نہیں بلکہ بسا اوقات صرف اسی قدران مکالمات سے مطلب ہوتا ہے کہ تاولی کے نفس کو کسی مصیبت اور محنت کے وقت صبر اور استقامت کے لباس سے متلی کیا جائے یا کسی غم اور حزن کے غلبہ میں کوئی بشارت اس کو دی جائے مگر وہ کامل اور پاک کلام خدائے تعالیٰ کا کہ جو نبیوں اور رسولوں پر نازل ہوتا ہے وہ جیسا کہ ہم نے ابھی بیان کیا ہے اس ضرورتِ حقہ کے پیش آنے پر نزول فرماتا ہے کہ جب خلق اللہ کو اس کے نزول کی بشدت حاجت ہو۔غرض کلام الہی کے نازل ہونے کا اصل موجب ضرورت حقہ ہے۔جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ جب تمام رات کا اندھیر ہو جاتا ہے اور کچھ ٹور باقی نہیں رہتا تو اسی وقت تم سمجھ جاتے ہو کہ اب ماہ نو کی آمدنزدیک ہے۔اسی طرح جب گمراہی کی ظلمت سخت طور پر دنیا پر غالب آجاتی ہے تو عقل سلیم اس روحانی چاند کے نکلنے کو بہت نزدیک سمجھتی ہے۔ایسا ہی جب امساک باراں سے لوگوں کا حال تباہ ہو جاتا ہے تو اس وقت عنظمند لوگ بارانِ رحمت کا نازل ہونا بہت قریب خیال کرتے ہیں اور جیسا کہ خدا نے اپنے جسمانی قانون میں بھی بعض مہینے برسات کے لئے مقرر کر رکھے ہیں یعنی وہ مہینے جن میں فی الحقیقت مخلوق اللہ کو بارش کی ضرورت ہوتی ہے اور ان مہینوں میں جو مینہ برستا ہے اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاتا کہ خاص ان مہینوں میں لوگ زیادہ نیکی کرتے ہیں اور دوسرے مہینوں میں فسق و فجور میں مبتلا رہتے ہیں۔بلکہ یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ وہ مہینے ہیں جن میں زمینداروں کو بارش کی ضرورت ہے اور جن میں بارش کا ہو جانا تمام سال کی سرسبزی کا موجب ہے ایسا ہی کلام الہی کا نزول فرمانا کسی شخص کی طہارت اور تقویٰ کے بہت سے نہیں ہے یعنی علت موجبہ اُس کلام کے نزول کی یہ نہیں ہو سکتی کہ کوئی شخص غایت درجہ کا مقدس اور پاک باطن تھا یا راستی کا بھوکا اور پیاسا تھا بلکہ جیسا کہ ہم کئی دفعہ لکھ چکے ہیں کتب آسمانی کے نزول کا اصلی موجب ضرورت حلقہ ہے یعنی وہ ظلمت اور تاریکی کہ جو دنیا پر طاری ہو کر ایک آسمانی نور کو چاہتی ہے کہ تاوہ نور نازل ہو کر اس تاریکی کو دور کرے اور اسی کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ جو خدائے تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں فرمایا ہے۔اِنَّا أَنزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ (القدر: ٢) يه ليلة القدر اگر چہ اپنے مشہور معنوں کے رو سے ایک بزرگ رات ہے لیکن قرآنی اشارات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ