تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 31
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱ سورة الفاتحة الْعِبَادُ مِنْ تَدغِ هَذَا الشُّعْبَانِ فَالْيَوْمَ ڈسنے سے امان پا جائیں گے۔پس اب زمانہ اپنے وَصَلَ الزَّمَانُ إِلَى آخِرِ الدَّاخِرَةِ وَانْتَهى انتہائی دور میں پہنچ گیا ہے اور دنیا کی عمر سبع مثانی کی عُمُرُ الدُّنْيَا كَالسَّبْعِ الْمَقَانِي إِلَى السَّابِعَةِ سات آیات کی طرح شمسی اور قمری حساب سے ساتویں من الألُوفِ الشَّمْسِيَّةِ وَالْقَمَرِيَّةِ الْيَوْمَ ہزار سال میں پہنچ گئی ہے۔آج یہ شیطان رجیم ایسے گروہ تَجَلَّ الرَّحِيمُ في مَظْهَر هُوَ لَهُ الْحَلَلِ کی صورت میں ظاہر ہوا ہے جو اس کے لئے بروزی الْبُرُوزِيَّةِ وَالحديمَ أَمْرُ الْغَيِّ عَلى قَوْمٍ لباس کی حیثیت رکھتا ہے اور گمراہی اس قوم پر ختم ہوگئی اخْتُتِمَ عَلَيْهِ أَخِرُ كَلِم الْفَاتِحَةِ وَلا ہے جس کا ذکر سورۃ فاتحہ کے آخری الفاظ میں آیا ہے اور يَفْهَمُ هَذَا الرَّمْنَ إِلَّا ذُو الْقَرِيعَةِ الْوَفَادَةِ اس بات کو وہی سمجھ سکتا ہے جو روشن طبع ہو۔دقبال صرف خدا کے فضل سے قتل ہوگا وَلَا يُقْتَلُ الدَّجَّالُ إِلَّا بِالْحَرُبَةِ اور یہ دجال صرف آسمانی حربہ سے ہی ہلاک کیا السَّمَاوِيَّةِ۔أَى بِفَضْل من الله لا بالطاقة جائے گا یعنی بشری طاقت سے نہیں بلکہ خدا تعالی کے الْبَشَرِيَّةِ۔فَلَا حَرْبَ وَ لَا ضَرْبَ وَلَكِن فضل سے ہی قتل ہوگا۔پس نہ کوئی لڑائی ہوگی نہ مار پیٹ۔أَمْرٌ تَازِلُ مِنَ الْحَطرَةِ الْأَحَدِيَّةِ وَكَانَ هذا بلکہ یہ ایک ایسا امر ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے وقوع الدَّجَّالُ يَبْعَثُ بَعْضَ نَرَارِيهِ في كُلِ مِائَةٍ پذیر ہوگا اور یہ دجال (شیطان) ہر صدی میں اپنی مِن مِينَ لِيُضِلُّ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُوَخِدِينَ ذریت میں سے بعض کو مقرر کرتا رہا تا مومنوں ، وَالصَّالِحِيْنَ وَالْقَائِمِينَ عَلَى الْحَقِّ موحدوں ، نیکوکاروں ،حق پر قائم لوگوں اور اس کے وَالظَّالِبِينَ وَيَهُ مَبَانِيَ الدِّينِ وَيَجْعَل طالبوں کو گمراہ کرے طالبوں کو گمراہ کرے اور دین کی عمارتوں کو گرا دے اور صُحُفَ اللَّهِ عِضِيْنَ وَكَانَ وَعَد فمن الله أنه الله تعالی کی کتب کو پارہ پارہ کر دے۔یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ مِّنَ أَنَّهُ يُقتل في آخِرِ الزَّمَانِ وَيَغْلِبُ الصَّلاحُ تھا کہ وہ دجال آخری زمانہ میں قتل کیا جائے گا اور نیکی ہر عَلَى الطَّلَاحِ وَالطُغْيَانِ۔وَتُبَتِّلُ الْأَرْضُ قسم کی خرابی اور سرکشی پر غالب آجائے گی اور زمین بدل دی جائے گی اور اکثر لوگ خدائے رحمان کی طرف وَ يَتُوبُ أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَى الرَّحْمَنِ وَ تُشْرِقُ الْأَرْضُ بِنُورِ رَيْهَا۔وَ تَخَرُجُ رجوع کرلیں گے۔زمین اپنے رب کے نور سے روشن ہو جائے گی اور قلوب شیطانی تاریکیوں سے باہر آجائیں الْقُلُوبُ مِنْ ظُلُمَاتِ الشَّيْطَانِ فَهَذَا هُوَ