تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 261
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۱ پے در پے نازل ہوتی ہیں۔سورة الفاتحة وَمُلْكَ لَّا يَبْلى وَمَنْ تَأَهَبَ لِهَذِهِ النِّعْمَةِ وَوُفِّقَ اور جو اس نعمت کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو جائے اور لِلقَبَاتِ عَلَيْهَا فَقَد دعى إلى كُلِ انواع اس پر ثابت قدمی کی توفیق پالے تو وہ ہر قسم کی ہدایت کی الْهُدى وَرَأَى الْعَيْشَ النَّضِيرَ وَالنُّور طرف بلایا گیا۔اور اندھیری راتوں کے بعد اُس نے خوشگوار المنير بَعْدَ لَيَالِي الدُّجى تجاه الله من زندگی اور روشن کرنے والے ٹور کو پالیا ہے۔اللہ تعالیٰ اُسے كُلِ الْهَفَوَاتِ قَبْلَ الْقَوَاتِ وَأَدْخَلَهُ في ضياع سے قبل ہر قسم کی لغزش سے نجات دیتا ہے۔نافرمانوں زُمَرِ الثَّقَاةِ بَعْدَ مُقَانَاةِ الْعُصاةِ وَأَرَادُ کے اختلاط کے باوجود اللہ تعالیٰ اُسے متقیوں کے زمرہ میں سُبُلَ الَّذِينَ أَنْعَمَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ داخل کر دیتا ہے اور اُسے منعم علیہم کی راہیں دکھاتا ہے نہ کہ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ مغضوب علیہم اور گمراہوں (کے راستے )۔صراط مستقیم کی وَأَمَّا حَقِيقَةُ الخِرَاطِ الْمُسْتَلِيمِ الَّتِنی حقیقت جو دین قویم کے مد نظر ہے وہ یہ ہے کہ جب بندہ أُريدَتْ في الدِّينِ الْقَوِيمِ فَهِيَ أَنَّ اپنے فضل و احسان والے خدا سے محبت کرنے لگے۔اُس کی الْعَبْدَ إِذَا أَحَبَّ رَبَّهُ الْمَتَان وَحان رضا پر راضی رہے۔اپنی رُوح اور دل اُس کے سپرد کر دے رَاضِيَّا بِمَرْضَاتِهِ وَفَوَّضَ إِلَيْهِ الرُّوحَ اور اپنے آپ کو اُس خدا کو سونپ دے جس نے انسان کو پیدا وَالْجَمَانَ وَأَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلهِ الَّذی خلق کیا ہے۔اُس کے علاوہ کسی اور سے دُعا نہ کرے۔اُسی سے الْإِنْسَانَ وَمَا دَعَا إِلَّا إِيَّاهُ وَصَافَاهُ خاص محبت رکھے۔اُسی سے مناجات کرے اور اُسی سے وَنَاجَاهُ وَسَأَلَهُ الرَّحْمَةَ وَالْحَنَانِ وَتَنَبَّه رحمت و شفقت مانگے۔اپنی بے ہوشی سے ہوش میں مِنْ غَشْيهِ وَاسْتَقَامَ في مَشْیہ وَخَشِی آجائے۔اپنی چال سیدھی کرے اور خدائے رحمان سے الرّحمن وَشَغَفَهُ اللهُ حُبًّا وَأَعَانَ وَقَوَى ڈرے۔محبت الہی اُس کے رگ و ریشہ میں سرایت کر الْيَقِينَ وَالْإِيْمَانَ فَمَالَ الْعَبْدُ إِلَى رَبِّهِ جائے۔اللہ تعالیٰ اُس کی مدد کرے اور اُس کے یقین اور بِكُلِ قَلْبِهِ وَ إليه وَعَقْلِهِ وَجَوَارِحِه ایمان کو پختہ کرے۔تب بندہ اپنے پورے دل، اپنی وَأَرْضِهِ وَحَقْلِهِ وَأَعْرَضَ عما سواه و خواہشات، اپنی عقل، اپنے اعضاء اور اپنی زمین اور کھیتی مَا بَقِيَ لَهُ إِلَّا رَبُّهُ وَ مَا تَبِعَ إِلَّا هَوَاهُ باڑی سب کے ساتھ کھلی طور پر اپنے رب کی طرف مائل ہو وَجَاءَهُ بِقَلْب فَارِغ عَنْ غَيْرِهِ وَمَا جاتا ہے اور اس کے سوا سب سے منہ موڑ لیتا ہے۔اُس کی نگاہ