تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 230
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۰ سورة الفاتحة دو سمجھتا ہے اس وقت وہ دہر یہ ہوتا ہے اور یہ خیال نہیں کرتا کہ میرا خدا میرے ساتھ ہے۔وہ مجھے دیکھتا ہے۔ور نہ اگر وہ یہ سمجھتا تو کبھی گناہ نہ کرتا۔تقویٰ سے سب شئے ہے۔قرآن نے ابتدا اسی سے کی ہے۔ايَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سے مراد بھی تقویٰ ہے کہ انسان اگر یہ عمل کرتا ہے مگر خوف سے جرات نہیں کرتا کہ اسے اپنی طرف منسوب کرے اور اسے خدا کی استعانت سے خیال کرتا ہے اور پھر اسی سے آئندہ کے لئے استعانت طلب کرتا ہے۔البدر جلد نمبر ۷ مؤرخہ ۱۳ / دسمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۵۱) ان آنکھوں سے وہ نظر نہیں آتا بلکہ دعا کی آنکھوں سے نظر آتا ہے کیونکہ اگر دعا کے قبول کرنے والے کا پتہ نہ لگے تو جیسے لکڑی کو گھن لگ کر وہ بکتی ہو جاتی ہے ویسے ہی انسان پکار پکار کر تھک کر آخرد ہر یہ ہو جاتا ہے ایسی دعا چاہیئے کہ اس کے ذریعہ ثابت ہو جاوے کہ اس کی ہستی بر حق ہے جب اس کو یہ پتہ لگ جاوے گا تو اس وقت وہ اصل میں صاف ہو گا۔یہ بات اگر چہ بہت مشکل نظر آتی ہے لیکن اصل میں مشکل بھی نہیں ہے بشرطیکہ تد بیر اور دُعا دونوں سے کام لیوے جیسے اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کے معنوں میں (ابھی تھوڑے دن ہوئے ) بتلا یا گیا ہے نماز پوری پڑھو۔صدقہ اور خیرات دو تو پوری نیست سے دو کہ خدا راضی ہو جاوے اور توفیق طلب کرتے رہو کہ ریا کاری عُجب وغیرہ زہریلے اثر جس سے ثواب اور اجر باطل ہوتا ہے دور ہو جاویں اور دل اخلاص سے بھر جاوے۔خدا پر بدظنی نہ کرو وہ تمہارے لیے ان کا موں کو آسان کر سکتا ہے وہ رحیم کریم ہے۔با کریماں کا رہا دشوار نیست۔اگر پیچھے لگے رہو گے تو اسے رحم آہی جائے گا۔البدر جلد ۳ نمبر ۱۱ مؤرخه ۱۶ / مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۸) قرآن شریف میں جو بڑے بڑے وعدے متقیوں کے ساتھ ہیں وہ ایسے متقیوں کا ذکر ہے جنہوں نے تقوی کو وہاں تک نبھایا جہاں تک ان کی طاقت تھی۔بشریت کے قومی نے جہاں تک ان کا ساتھ دیا برابر تقویٰ پر قائم رہے حتی کہ ان کی طاقتیں ہار گئیں اور پھر خدا تعالیٰ سے انہوں نے اور طاقت طلب کی جیسے کہ إيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سے ظاہر ہے اِيَّاكَ نَعْبُدُ یعنی اپنی طاقت تک تو ہم نے کام کیا اور کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا ايَّاكَ نَسْتَعِينُ یعنی آگے چلنے کے لئے اور نئی طاقت تجھ سے طلب کرتے ہیں جیسے کہ دو دو حافظ نے کہا ہے۔ما بداں منزل عالی نتوانیم رسید ہاں اگر لطف شما پیش نہد گامے چند ( البدر جلد ۳ نمبر ۲۲، ۲۳ مورخه ۸ تا۶ ارجون ۱۹۰۴ء صفحه ۲)