تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 152
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۲ سورة الفاتحة الَّتِي بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَصِلُونَ إِلَيْهِ مِنَ اور ریاضتوں میں مدد دیتی ہے جو ان مناسبتوں کے ظہور کا النُّفُوسِ كَنَفْسِ الْعَرْشِ وَالْعُقُولِ موجب بنتی ہیں جو بنی آدم اور نفوس عالیہ مثلاً نفس عرش اور الْمُجَرَّدَةِ إِلى أَن يَصِلُوا إلَى الْمَبْدَهِ عقول مجردہ میں موجود ہیں جن تک بنی آدم نے پہنچنا ہے۔یہ الْأَوَّلِ وَعِلَّةِ الْعِلَلِ۔ثُمَّ إِذَا أَعَانَ سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ بنی آدم مہد اول اور علت السَّالِكَ الْجَنَّبَاتُ الْإِلهِيَّةُ وَالنَّسِيمُ عِلل ( ذات باری ) تک پہنچ جائیں۔پھر جب الہی کشش اور الرَّحْمَانِيَّةُ فَيَقْطَعُ كَثِیرًا من نجیب اس کی رحمانیت کی ٹھنڈی ہوا سالک کی مدد کریں تو اللہ تعالیٰ وَيُنجِيْهِ مِنْ بُعْدِ الْمَقْصَدِ وَكَثْرَةِ اس کے بہت سے پر دے دور کر دیتا ہے اور اُسے مقصد کی عَقَبَاتِهِ وَافَاتِهِ وَيُنَورُهُ بِالنُّورِ الْإِلهِي دُوری سے اور بہت سی درمیانی روکوں اور آفات سے نجات وَيُدخِلُهُ فِي الْوَاصِلِينَ فَيَكُبُلُ لَهُ دے دیتا ہے۔اور اُسے ( سالک کو ) الہی نور سے منور کر دیتا الْوُصُولُ وَالشُّهُودُ مَعَ رُؤْيَتِه ہے۔اور زمرہ واصلین میں داخل کر دیتا ہے۔اور ( راہ سلوک عَجَائِبَاتِ الْمَنَازِلِ وَ الْمَقَامَاتِ وَلا کی منزلوں اور مقامات کے عجائبات دیکھنے کے ساتھ ساتھ شُعُوْرٌ لِأَهْلِ الْعَقْلِ بِهِ الْمَعَارِفِ وہ وصالِ الہی اور دیدار الہی کے مرتبہ وصول و شہود کو پالیتا وَالنِّكَاتِ وَ لَا مَدْخَلَ لِلْعَقلِ فِیهِ وَ ہے۔لیکن فلسفیوں کو ان معارف اور باریکیوں کا کچھ بھی پتہ الإطلاعُ بِأَمْقَالِ هَذِهِ الْمَعَانِي إِنما هُو نہیں اور نہ ہی محض عقل کو اس شعور میں کوئی دخل ہے۔اور مِن مِشْكَاةِ النُّبُوَّةِ وَ الْوَلايَةِ وَمَا ایسے مطالب اور معانی پر آگہی صرف مشکوۃ نبوت اور شَمَتِ الْعَقْلَ رَائِحَتُهُ وَمَا كَانَ لِعَاقِلِ ولایت سے حاصل ہوتی ہے اور اس کی خوشبو عقل کو نہیں پہنچ أَن يَضَعَ الْقَدَمَ في هَذَا الْمَوْضِيع إلا سکی۔اور نہ کسی عقلمند کے لئے ممکن ہے کہ وہ اس مقام پر بجز يُجَذِّبَةٍ مِنْ جَذَبَاتِ رَبِّ الْعَالَمِينَ - رب العالمین کی کسی کشش کے قدم مار سکے۔وَإِذَا الْفَكَّتِ الْأَرْوَاحُ الطَّيِّبَةُ اور جب نیکوں کی پاک اور کامل روحیں ان مادی جسموں الْعَامِلَةُ مِنَ الْأَبْدَانِ وَ يَتَطَهَّرُونَ سے الگ ہو جاتی ہیں اور وہ مکمل طور پر ( گناہوں کی ) میل عَلَى وَجْهِ الْكَمَالِ مِنَ الْأَوسامح بچیل سے پاک ہو جاتے ہیں تو وہ فرشتوں کی وسائط سے وَالْأَخْرَانِ يُعْرَضُونَ عَلَی اللہ اللہ تعالیٰ کے سامنے عرش کے نیچے اس کے حضور پیش کئے جاتے تَحْتَ الْعَرْشِ بِوَاسِطَةِ الْمَلَائِكَةِ ہیں تب وہ ایک نئے طور سے ربوبیت سے ایسا حصہ پاتے ہیں