تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 117
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۱۷ سورة الفاتحة بلا تمیز انسان و حیوان و مومن و کافرونیک و بد حسب حاجت اپنے ان فیوض مذکورہ بالا سے مستفیض ہورہا ہے اور کوئی ذی روح اس سے محروم نہیں اور اس فیضان کا نام قرآن شریف میں رحمانیت ہے اور اسی کے رو سے خدا کا نام سورۃ فاتحہ میں بعد صفت رب العلمین رحمن آیا ہے۔جیسا کہ فرمایا ہے۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ اکر خمن۔اس صفت کی طرف قرآن شریف کے کئی ایک اور مقامات میں بھی اشارہ فرمایا گیا ہے۔چچنانچہ 99911 919 منجملہ ان کے یہ ہے وَ إِذَا قِيلَ لَهُمُ اسْجُدُوا لِلرَّحْمَن قَالُوا وَ مَا الرَّحْمَنُ اَنَسْجُدُ لِمَا تَأْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ تفورات تَبْرَكَ الَّذِى جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَ جَعَلَ فِيهَا سِرجًا وَ قَمَرًا منيران وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ الَيْلَ وَالنَّهَارِ خِلْفَةً لِمَنْ اَرَادَ أَنْ يَذَكَرَ اَوْ أَرَادَ شُكُورًا وَ عِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِيْنَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَ إِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَهِلُونَ قَالُوا سَلمًا (الفرقان: ۶۱ تا ۶۴ ) یعنی جب کافروں اور بے دینوں اور دہریوں کو کہا جاتا ہے کہ تم رحمان کو سجدہ کرو تو وہ رحمان کے نام سے متنفر ہوکر بطور انکار سوال کرتے ہیں کہ رحمان کیا چیز ہے ( پھر بطور جواب فرمایا ) رحمان وہ ذات کثیر البرکت اور مصدر خیرات دائمی ہے جس نے آسمان میں بُرج بنائے۔برجوں میں آفتاب اور چاند کو رکھا جو کہ عامہ مخلوقات کو بغیر تفریق کافر و مومن کے روشنی پہنچاتے ہیں۔اسی رحمان نے تمہارے لئے یعنی تمام بنی آدم کے لئے دن اور رات بنائی جو کہ ایک دوسرے کے بعد دورہ کرتے رہتے ہیں تا جو شخص طالب معرفت ہو وہ ان دقائق حکمت سے فائدہ اٹھا دے اور جہل اور غفلت کے پردہ سے خلاصی پاوے اور جو شخص شکر نعمت کرنے پر مستعد ہو وہ شکر کرے۔رحمان کے حقیقی پرستاروہ لوگ ہیں کہ جو زمین پر بردباری سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے سخت کلامی سے پیش آئیں تو سلامتی اور رحمت کے لفظوں سے ان کا معاوضہ کرتے ہیں یعنی بجائے سختی کے نرمی اور بجائے گالی کے دُعا دیتے ہیں۔اور تنشبہ باخلاق رحمانی کرتے ہیں کیونکہ رحمان بھی بغیر تفریق نیک و بد کے اپنے سب بندوں کو سورج اور چاند اور زمین اور دوسری بے شمار نعمتوں سے فائدہ پہنچاتا ہے۔پس ان آیات میں خدائے تعالیٰ نے اچھی طرح کھول دیا کہ رحمان کا لفظ ان معنوں کر کے خدا پر بولا جاتا ہے کہ اس کی رحمت وسیع عام طور پر ہر یک برے بھلے پر محیط ہو رہی ہے۔جیسا ایک جگہ اور بھی اسی رحمت عام کی طرف اشارہ فرمایا ب عَذَابِي أَصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاءُ ۚ وَ رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ (الاعراف: ۱۵۷) یعنی میں اپنا عذاب جس کو لائق اس کے دیکھتا ہوں پہنچا تا ہوں اور میری رحمت نے ہر یک چیز کوگھیر رکھا ہے۔اور پھر ایک اور موقعہ پر فرما یا قُلْ مَنْ يَحْلُوكُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ مِنَ الرَّحْمنِ (الانبیاء : ۴۳) یعنی ان کافروں اور