تفسیر کبیر (جلد ۷)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 658

تفسیر کبیر (جلد ۷) — Page 100

اپنے شوہر کی طرف ہو گی اور وہ تجھ پر حکومت کرے گا اور آدم سے اس نے کہا چونکہ تو نے اپنی بیوی کی بات مانی اور اس درخت کا پھل کھایا جس کی بابت میں نے تجھے حکم دیا تھا کہ اسے نہ کھانا۔اس لئے زمین تیرے سبب سے لعنتی ہوئی مشقت کے ساتھ تو اپنی عمر بھر اس کی پیداوار کھائے گا اور وہ تیرے لئے کانٹے اور اونٹ کٹارے اُگائے گی اور تو کھیت کی سبزی کھائے گا تو اپنے منہ کے پسینے کی روٹی کھائے گا جب تک کہ زمین میں تو پھر لوٹ نہ جائے اس لئے کہ تو اس سے نکالا گیا ہے کیونکہ تو خاک ہے اور خاک میں پھر لوٹ جائے گا۔‘‘ (پیدائش باب ۳ آیت ۱تا ۱۹) یہ وہ واقعہ ہے جو بائبل میں آدم کے گناہ کے متعلق آتا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ شیطان کا مقصود آدم کو ورغلانا تھا۔کیونکہ شیطان سمجھتا تھا کہ آدم کے وجود سے میری حکومت باطل ہو جاتی ہے حوا کا مقام ایسا نہیں تھا کہ شیطان کو اس سے خطرہ ہوتا۔پس اس کی اصل غرض یہ تھی کہ آدم کو جنت سے نکالا جائے۔گویا اصل ساکن جنت آدم تھا۔حوا آدم کے طفیل پیدا ہوئی اور آدم کے طفیل ہی اسے جنت ملی۔پس شیطان کا اصل مقصد آدم کو بہکانا تھا مگر شیطان آدم کے پاس نہیں گیا بلکہ حوا کے پاس گیا اور اسے پھل کھانے پر آمادہ کیا اور پھر حوا نے آگے آدم کو پھل کھلایا۔اب سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا اور شیطان پہلے حوا کے پاس کیوں گیا جبکہ اس کی اصل غرض آدم کو بہکانا تھی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شیطان کی اصل غرض گو آدم کو بہکانا تھی مگر وہ ڈرتا تھا کہ اگر میں براہ راست آدم کے پاس گیاتو میں اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوں گا۔اور آدم میرے دھوکا میں نہیں آئے گا۔اس لئے وہ پہلے حوا کے پاس گیا۔وہ سمجھتا تھا کہ حوا جلد قابو آ جائے گی او رپھر حوا کے ذریعہ آدم کو ورغلانا آسان ہو جائے گا۔چنانچہ جب آدم سے اللہ تعالیٰ نے کہا کہ ’’ کیا تو نے اس درخت کا پھل کھایا جس کی بابت میں نے تجھ کو حکم دیا تھا کہ اسے نہ کھانا ‘‘ تو آدم نے یہی جواب دیا کہ ’’ جس عورت کو تو نے میرے ساتھ کیا ہے اس نے مجھے اس درخت کا پھل دیا اور میں نے کھایا ‘‘ یعنی آپ کی طرف سے یہ عورت مجھے تحفہ کے طور پر ملی تھی۔میں دھوکا میں آ گیا اور میں نے سمجھا کہ یہ عورت جو خدا تعالیٰ کا عطیہ ہے یہ تو غلطی نہیں کر سکتی اور میں نے اس کے کہنے سے اس درخت کا پھل کھا لیا۔غرض آدم بھی یہی کہتا ہے کہ عورت نے مجھے بہکایا اور شیطان بھی پہلے حوا کے پاس ہی گیا اور اس نے اسے ورغلایا۔ان واقعات سے ظاہر ہے کہ