تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 375

یہی آخری معنے ہیں۔تفسیر۔یقین کے معنے اس جگہ پر موت کے ہیں۔فرماتا ہے کہ اب تو موت تک ہماری عبادت میں لگارہ یعنے اسلام کو جو ترقی ملے گی۔اس میں اب کوئی رخنہ نہیں پڑے گا۔اورتوبافراغت اپنی موت تک کھلے بندوں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرسکے گا اوریہ لوگ اس وقت جوتیری عبادات میں روکیں ڈالتے ہیں۔ان کو خدا تعالیٰ اس طرح مٹادے گاکہ تیری ساری زندگی عبادت کی آزادی کے لحاظ سے راحت میں گذرے گی۔یقین کے معروف معنے بھی اس جگہ ہوسکتے ہیں اوراس صورت میں یہ معنے ہوں گے کہ جس ساعت کا وعدہ ہے اس کے آنے تک خاص طور پر عبادت میں مشغول رہوگویا عذاب یاساعتہ کے آثار ظاہر ہونے کانام یقین رکھا کیونکہ جب تک وعدہ پورانہ ہو اس کی پوری حقیقت ظاہر نہیں ہوتی۔پس فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے وعد ہ ہوتو خاص طور پر دعااورعبادت میں لگ جانا چایئے تاکہ وہ وعدہ ہرقسم کی خیر کے ساتھ پوراہو۔اس کے یہ معنے نہیں کہ دوسرے دنوں میں عبادت چھوڑ سکتاہے۔کیونکہ جب یہ آیت نازل ہوئی اس وقت بھی رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم عبادت کرتے تھے پس اس کے معنے معمول سے زیادہ عبادت اور توجہ کے ہیں۔بعض نادا ن بدعتی اس آیت کے یہ معنے کرتے ہیں کہ جب تک یقین حاصل نہ ہو عبادت فرض ہے جب یقین حاصل ہوجائے تو پھر نہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’یقین کے حاصل ہونے تک عبادت کر ‘‘یہ نادان نہیں جانتے کہ اس طرح وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرتے ہیں۔اورگویایہ کہتے ہیں کہ اس سورۃ کے اُترنے تک آپ کویقین کامل حاصل نہ ہواتھا۔اگر محمد رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم) کو نبوت کے بعد یقین حاصل نہ ہواتھا تو ان ذلیل لوگوں کو یقین کس طرح حاصل ہو سکتا ہے نَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ ھَذِہِ الْخُرَافَاتِ۔ایک دفعہ میرے پاس ایک ایسا ہی شخص آیا اورسوال کیا کہ کشتی کاسوار جب کنا رہ پر پہنچے توکشتی ہی میں بیٹھارہے یااُتر آئے۔میں نے کہا۔کہ اگر دریا محدود ہے اورا س کاکنارہ ہے توکنارہ پر اُتر آئے لیکن اگر دریا بے کنارہے توجس کو وہ کنار ہ سمجھتا ہے وہ اس کی عقل کادھوکہ ہے اس لئے وہ جہاں اُترے گاوہیں ڈوبے گا۔اس پر وہ سخت شر مندہ ہوا۔