تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 558 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 558

ایک خاوند اپنی بیوی کو عفیفہ اور صالحہ سمجھتا ہو تو اس سے پیدا ہونے والی اولاد کے متعلق وہ ہرگز کسی شبہ میں گرفتار نہیں ہوتا بلکہ اُسے جائز طور پر اپنی نسل سمجھتا ہے۔یہی بات اللہ تعالیٰ اس جگہ پیش کرتا ہے کہ جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کو اسی طرح پہچانتے ہیں جس طرح وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔یعنی جس طرح ہر انسان اپنی بیوی کی پاکدامنی پر اعتبار کر تے ہوئے اس کے بطن سے پیدا ہونے والی اولاد کو اپنی اولاد سمجھتا ہے اور کبھی اس واہمہ میں گرفتار نہیں ہوتا کہ شاید یہ کسی اور کی اولاد ہو اسی طرح جن لوگوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیانت اور آپ کی راستبازی کو دیکھا ہے اُن کے لئے آپ کی صداقت کی سب سے بڑی دلیل خود آپ کا اپنا وجود ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر یہ وحی نازل ہوئی کہ اَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ (الشعرآء:۲۱۵) تو آپؐ نے مکہ کے تمام قبائل کو جمع کیا اور فرمایا کہ اگر میں تمہیں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک بڑا بھاری لشکر جمع ہے جو تم پر حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم مان لو گے؟ اب باوجود اس کے کہ یہ ایک ناممکن بات تھی کیونکہ اس پہاڑ کے پیچھے میدان تھا اور اس میں کوئی لشکر تو الگ رہا پچاس ساٹھ آدمی بھی نہیں چھپ سکتے تھے۔مگر پھر بھی انہوں نے کہا ہم تمہاری بات یقیناً مان لینگے کیونکہ تم نے آج تک کبھی جھوٹ نہیں بولا۔گویا وہ ناممکن بات کو بھی جو آپ کے منہ سے نکلے ماننے کے لئے تیار تھے۔اس پر آپ نے فرمایا۔اگر تم میری اس بات کو ماننے کے لئے تیار ہو۔تو میں تمہیں بتاتاہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے نذیر بنا کر بھیجا ہے اگر تم مجھے نہیں مانو گے تو خدا تعالیٰ کے غضب کے نیچے آئو گے(بخاری کتاب التفسیر سورة الشعرآء)۔اس پر وہ آپ ؐ کو فریبی اور دغاباز کہتے ہوئے واپس چلے گئے۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُن میں اس قدر راستباز اور امین مشہور تھے کہ دشمن بھی اقرار کرتا تھا کہ اس شخص سے بڑھ کر سارے مکہ میں کوئی شخص دیانت دار اور راستباز نہیں۔پھر اگر ایک انسان اپنی بیوی کے سو جھوٹ دیکھ کر بھی اپنے دل میں کوئی وسوسہ پیدا نہیں کرتا توکیا وجہ ہے کہ وہ ایسے شخص پر اعتبار نہیں کرتے جس کا ہر قول سچا اور جھوٹ سے مبرّا رہا ہے۔فرماتا ہے کم سے کم بیٹوں جیسا سلوک تو اس کے ساتھ ہونا چاہیے۔بیویوں کی سچائی پر تو دو ۲گواہ بھی نہیں ہوتے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سچائی پر تمام مکہ شاہد تھا اور دشمن بھی آپ کی راستبازی سے انکار نہیں کرتا تھا۔پھر آپؐ کا انکار کیسے درست ہو سکتا ہے۔وَ اِنَّ فَرِيْقًا مِّنْهُمْ لَيَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ هُمْ يَعْلَمُوْنَ۔فرماتا ہے ان میں سے ایک فریق ایسا ہے جو حق کو چُھپا رہا ہے۔اُسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راستبازی کا علم ہے۔اسے آپ کی دیانت کا علم ہے۔اسے آپؐ کی امانت کاعلم ہے اور وہ خوب جانتا ہے کہ یہ شخص جھوٹ اور فریب کے کبھی قریب بھی نہیں گیا۔مگر باوجود اس کے وہ حق کو