تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 68

اللہ تعالیٰ کی تقدیر خاص اس میں روک بن رہی ہے ورنہ اس کا بدلہ ضرور مل جاتا۔اُولٰٓىِٕكَ عَلَيْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ١۫ وَ اُولٰٓىِٕكَ یہی وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے برکتیں (نازل ہوتی )ہیں اور رحمت (بھی) هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ۰۰۱۵۸ اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔حل لغات۔صَلٰوۃٌ جیسا کہ اوپر حل لغات میں بتایا جا چکا ہے صَلٰوۃٌ کے کئی معنے ہیں۔مگر جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال ہو تو اس کے معنے صرف مغفرت اور حسنِ ثناء کے ہوتے ہیں۔عبادت کے معنے اس لئے چسپاں نہیں ہو سکتے کہ عبادت خدا تعالیٰ کی کی جاتی ہے اس کی طرف سے آتی نہیں۔اسی طرح رحمت کے معنے بھی یہاں چسپاں نہیں ہو سکتے۔کیونکہ صَلٰوۃ کے ساتھ ہی رحمت کا لفظ بھی آگیا ہے۔پس اس جگہ اس کے معنے صرف یہ ہیں کہ ان لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف سے مغفرت حاصل ہو گی یا انہیں ثنائے جمیل عطا کی جائےگی۔تفسیر۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ ارضی اور سماوی آفات پر سچے دل سے اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اپنی مغفرت سے حصہ دیتا ہے یعنی وہ ان کے نقصانات کا ازالہ کرتا اور ان کی ناکامی کو کامیابی میں اور تکلیف کو راحت میں بدل دیتا ہے۔اسی طرح اُن پر اللہ تعالیٰ کا فضل حسن ثناء کی صورت میں نازل ہوتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ ان کی نیک شہرت دنیا میں قائم کر دیتا ہے اور لوگوں کی زبانوں پر ان کا ذکر خیر جاری ہو جاتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو! مسلمانوں نے اسلام کی اشاعت کے لئے کتنی بڑی قربانیوں سے کام لیا تھا۔انہوں نے اپنی جانوں اور مالوں اور اولادوں کو بلا دریغ قربان کر دیا اور کسی بڑی سے بڑی مصیبت کی بھی پرواہ نہ کی۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج دشمنانِ اسلام تک بھی ان کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔وہ اسلام پر اعتراض کرتے ہیں مگر جب صحابہؓ کی قربانیوں کا ذکر آتا ہے تو وہ یہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ انہوں نے اپنے مذہب کی اشاعت کے لئے جو نمونہ دکھایا وہ یقیناً بے مثال تھا۔ایک فرانسیسی مورخ لکھتا ہے کہ مجھے سب سے زیادہ حیرت اس بات پر آتی ہے کہ ہمیں چند آدمی پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس مدینہ کی ایک ٹوٹی پھوٹی مسجد میں جس پرکھجور کی شاخوں کی چھت پڑی ہوئی تھی اور جو ذرا سی بارش سے بھی ٹپکنے لگ جاتی تھی آہستہ آہستہ سرگوشیاں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔اور جب ہم ان