تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 58

ہیں۔مگر مومن کی یہ حالت نہیں ہوتی وہ خدا کے لئے بھوکا رہنے کو بھی تیار ہو جاتا ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ صحابہؓ کو باہر بھیجا تو ان میں سے کسی نے بھی یہ نہ پوچھا کہ ہم کھائیںگے کیا۔چنانچہ وہ پتے کھا کر گذارہ کرتے تھے۔اسی طرح ایک دفعہ انہوں نے کھجوروں کی گٹھلیاں کھا کر گذارہ کیا( نسائی کتاب الصید والذبائح باب میتة البحر)۔پس فرمایا ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ تم بہادر ہو یا نہیں اور یہ بھی کہ تم بھوک برداشت کرتے ہو یا نہیں۔پھر بعض لوگ بھوک اور خوف تو برداشت کر لیتے ہیں مگر مال کے خطرہ کو برداشت نہیں کر سکتے۔بعض مال کے خطرہ کو برداشت کر لیتے ہیں مگر جان کے خطرہ کو برداشت نہیں کر سکتے۔پس فرماتا ہے تمہیں مالی اور جانی نقصانات بھی برداشت کرنے پڑیں گے اور بعض دفعہ اپنی کوششوں کے نتائج سے بھی محروم رہنا پڑے گا۔ثمرات کے کم ہونے کی مثال اُحد کی جنگ ہے کہ وہ کفار سے لڑے بھی اور شہید بھی ہوئے مگر انہیں اس کا ثمرہ نہ ملا۔اسی طرح ثمرات کے نقصان میں تجارت اور صنعت و حرفت وغیرہ کی بربادی بھی شامل ہے۔جو جنگ کا ایک لازمی نتیجہ ہوتی ہے غرض بتایا کہ بعض دفعہ ایسا بھی ہو گا کہ تم کام کرو گے مگر اس کے فوائد تمہاری امیدوں کے مطابق نہیں نکلیںگے۔مگر فرمایا وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ۔وہ لوگ جو ان تمام ابتلائوں کو برداشت کرلیں گے اور ایمان پر مضبوطی سے قائم رہیں گے۔ان کو کوئی ڈر نہیں۔وہ کہتے ہیں اگر لوگ ہمیں ڈراتے ہیں تو بے شک ڈرائیں۔اگر ہمارا مقاطعہ کرتے ہیں تو بے شک کریں۔اگر وہ ہمیں سودا سلف نہیںدیتے تو بے شک نہ دیںہم تو خدا تعالیٰ کے رستے میں قربانیاں کرتے چلے جائیں گے۔اسی طرح اگر وہ ہمارے مال لُوٹنے پر آئے ہیں تو بے شک لُوٹ لیں اور پھر جب وہ ان کی جانوں پر حملہ کرنا چاہتے ہیں توکہتے ہیں کہ تم ہمیں قتل کرکے بھی دیکھ لو اور جب وہ ان کی اولادوں پر حملہ کر کے ان کی تباہی کا سامان پیدا کرنا چاہتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اچھا تم یہ کام بھی کر کے دیکھ لو۔ہمیں تمہارے ان کاموں کی بھی پروا نہیں۔غرض ابتداء سے انتہا تک وہ اُن کے ہر حملہ کے مقابلہ میں قائم رہتے ہیں اور یہی کہتے رہتے ہیں کہ جو کچھ تمہاری مرضی ہے کر کے دیکھ لو۔تم ہمیں صداقت سے منحرف نہیں کر سکتے۔جب وہ پانچوں قسم کے ابتلائوں سے پیچھے نہیں ہٹتے بلکہ ان میں ثابت قدم رہتے ہیں اور استقلال سے ان کو برداشت کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں بشارت دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ مبارک ہو! تمہارے ایمان کی پختگی ثابت ہو گئی۔تم امتحان میں پاس ہو گئے اب تم اگلی جماعت کی تیاری کرو۔صبر سے یہ مراد نہیں کہ انسان کو غم نہ ہو بلکہ صبر سے مراد یہ ہے کہ ایسا غم نہ ہو جس سے حواس جاتے رہیں اور عقل اور قوتِ عملیہ باطل ہو جائے۔یہ کیسی اعلیٰ درجہ کی فطرت انسانی کے مطابق تعلیم ہے۔نہ غم سے روکا کہ وہ فطرتی امر