تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 554 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 554

مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَۘ۰۰۱۴۶ (الٰہی) علم آچکا ہے تو نے اُن کی خواہشات کی پیروی کی تو یقیناً اس صورت میں تو ظالموں میں (شمار) ہو گا۔تفسیر۔فرماتا ہے کہ اگر تم اہل کتاب کو ہر قسم کے نشان دکھائو تو وہ پھر بھی تمہارے قبلہ کی پیروی نہ کرینگے اور اس میں کیاشبہ ہے کہ اگر وہ تسلیم کر لیتے تو اس کے معنے یہ تھے کہ وہ بنو اسحاق میں سے سلسلۂ نبوت کے ختم ہوجانے کا اقرار کرتے اور اس کے یہ معنے بنتے کہ یہودی مذہب باطل ہو گیا اور اسلام قائم ہو گیا۔لیکن یہود اس کے لئے تیار نہیں تھے۔پس اُن کی بے دینی اور مذہبی اور قومی مجبوریاں اُن کو اس قبلہ کی طرف نہیں آنے دیتی تھیں اور وہ انکار پر مصر رہتے تھے۔یہ آیت بتاتی ہے کہ کبھی کوئی قوم ساری کی ساری نہیں مانا کرتی بلکہ کچھ لوگوں کا ہلاک ہونا ضروری ہوتا ہے چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر معمولی عزت خدا تعالیٰ کو منظور تھی اس لئے اس نے تئیس برس تک آپ کو کوشاں رکھا اور اس عرصہ میں خبیث گروہ کو اس نے ہلاک کر دیا۔اور بعد ازاں اہل عرب کو توفیق عطا فرمائی اور وہ آپؐ پر ایمان لے آئے۔بہر حال اختلافات کا سلسلہ ہمیشہ سے جاری ہے اور قیامت تک چلتا چلا جائے گا۔پس وہ شخص جو اختلافات کو دیکھ کر گھبراتا ہے نہایت بیوقوف ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ مَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْکہ تو بھی ان کے قبلہ کی کسی صورت میں پیروی نہیں کریگا۔یہاں قرآنی حسنِ کلام دیکھو کہ اس فقرہ کو کس طرح اعتراض سے بچایا ہے۔عام عربی قواعد کے لحاظ سے مَاتَتْبَعُ قِبْلَتَھُمْ کہنا چاہیے تھا مگر اللہ تعالیٰ نے بجائے فعل کے اسم کا استعمال کیا ہے اور فقرہ کی شکل بدل دی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے فقرہ کے ساتھ یہ فقرہ بھی تھا کہ وَ لَىِٕنْ اَتَيْتَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰيَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ کہ وہ ہر قسم کے نشانات دیکھنے کے باوجود تیرے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے۔اگر اسی قسم کا جملہ بنایا جاتا اور اس میں اسی قسم کا فعل رکھا جاتا تو اس کے معنے یہ بنتے کہ یہ رسول بھی باوجود دلائل کے اُن کے قبلہ کا پیرو نہیں ہو گا۔اور چونکہ یہ قابلِ اعتراض بات تھی اس لئے اس کی بجائے ایک اور چھوٹا سا فقرہ رکھ کر اعتراض دُور کر دیا اور بتا دیا کہ اس رسول کا انکار محض اس وجہ سے ہے کہ اُسے خدا تعالیٰ کی طرف سے دلائل دیئے گئے ہیں۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کیوں فرمایا کہ مَااَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَھُمْ یہ تو محض ضِد نظر آتی ہے۔لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ضِد نہیں کیونکہ آپؐ نے خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق بیت اللہ کی طرف منہ کیا تھا۔اگر آپ کو یہود سے ضِد ہوتی تو آپ ؐ مکی زندگی میں بھی اور پھر ہجرت کے بعد بھی سولہ سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف کبھی منہ نہ