تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 552
کہ وہ غیروں کے متعلق بھی یہ پسند نہیں کرتے تھے کہ وہ آپؐ کو نام لے کر پکاریں ان کے متعلق یہ تصور بھی کس طرح کیا جا سکتا ہے کہ وہ خود آ پؐ کو محمد ؐ کہہ کر پکارتے ہوں۔پس اس روایت کے یہ الفاظ کہ محمدؐ پہلے صخرئہ بیت المقدس کی طرف منہ کیا کرتا تھا جو یہود کا قبلہ تھا اور سترہ ماہ تک وہ ایسا ہی کرتا رہا اور اس نے بیت المقدس کی طرف منہ اس لئے کیا تھا کہ وہ یہود کو خوش کرے اور وہ اس پر ایمان لے آئیں اور اس کی اتباع کریں۔لیکن جب وہ اس ذریعہ سے مسلمان نہ ہوئے تو پھر اس نے مکہ کی طرف منہ کر لیا خود اپنی ذات میں اس امر کا ثبوت ہیں کہ یہ الفاظ کسی مسلمان کے منہ سے نہیںنکل سکتے۔بلکہ یقیناً کسی یہودی یا کسی منافق کے ہی ہو سکتے ہیں۔یہودی ہی یہ کہا کرتے تھے کہ سترہ مہینے تک تو ادھر منہ کرتے رہے اب دوسری طرف کرنے لگ گئے ہیں۔پس یہ الفاظ کسی مسلمان کی طرف منسوب نہیں ہو سکتے۔مگر یہ روایت وضع کرتے وقت اُسے اتنا بھی خیال نہ رہا کہ میں الفاظ تو ایسے لکھوں جن سے میری دھوکا دہی پرپردہ پڑا رہے۔چنانچہ اس نے روایت تو بنالی مگر خدا تعالیٰ نے اس روایت کے اندر ہی اس سے ایسے الفاظ رکھوا دیئے جن سے اس کی افتراء پردازی کا پردہ فاش ہو گیا اور پتہ لگ گیا کہ اس کے پیچھے کوئی منافق یا کذاب بول رہا ہے۔اُسے اپنے بُغض کی شدت کی وجہ سے اتنا بھی یاد نہ رہا کہ صحابہؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو محمدؐ کے لفظ سے نہیں بلکہ نبی یا رسول کے لفظ سے پکارا کرتے ہیں اور صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ساتھ استعمال کیا کرتے ہیں اور گو ’’جامع البیان‘‘ میں ’’اَلنَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘‘ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ الفاظ خود مسلمانوں نے اس روایت کو نقل کرتے وقت لگا لئے ہیں لیکن خواہ اس روایت کے یہ الفاظ ہوں کہ اَنَّ مُحَمَّدًاکَانَ یَسْتَقْبِلُ صَخْرَۃَ بَیْتِ الْمُقَدَّسِ یا یہ الفاظ ہوںکہ اَنَّ النَّبِیَّ صَلیَّ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَسْتَقْبِلُ صَخْرَۃَ بَیْتِ الْمُقَدَّسِ دونوں صورتوں میں اس روایت کا مضمون اپنی ذات میں ایسا گندہ اور ناپاک ہے کہ کوئی سلیم الفطرت انسان اسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کر سکتا۔اِسی طرح بیہقی نے اپنی کتاب’’ دلائل النبوّت‘‘ میں زہری سے روایت کی ہے کہ قبلہ کی تحویل مسجد حرام کی طرف ماہ رجب میں ہوئی تھی جبکہ ہجرت کے بعد سولہ مہینے گذر چکے تھے۔وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُقَلِّبُ وَجْھَہٗ فِی السَّمَآءِ وَھُوَ یُصَلِّیْ نَحْوَ بَیْتِ الْمُقَدَّسِاور جب آپ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے تو آپ حالتِ نماز میں ہی بار بار اپنا منہ آسمان کی طرف اُٹھاتے تھے اور چاہتے تھے کہ تحویل قبلہ کے بارے میں کوئی خدائی حکم نازل ہو۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے بیت الحرام کی طرف منہ پھیرنے کا حکم نازل فرما دیا اور یہ آیات نازل فرمائیں کہ سَيَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِيْ كَانُوْا عَلَيْهَا۔اس پر یہود