تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 543
کی طرف پھیر دو۔پہلی جگہ واحد مخاطب کا صیغہ رکھا اور دوسری جگہ جمع کا۔اسی طرح پہلے وَجْھَکَ فرمایا اور پھر وُجُوْھَکُمْ فرمایا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے فقرہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کیا گیا ہے اور دوسرے فقرہ میں تمام مسلمانوں سے خطاب ہے جو مختلف بلاد وامصار میں رہتے تھے بیشک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی جب مدینہ سے باہر تشریف لے جاتے تو آپ بھی بیت اللہ کی طرف ہی منہ کرتے تھے۔مگر آپ کا زیادہ ترقیام مدینہ میں ہی تھا۔اور باہر کا قیام عارضی تھا۔لیکن دوسرے لوگوں کا مدینہ کا قیام عارضی تھا اور باہر کا مستقل اس لئے پہلی جگہ صرف آپ کو مخاطب کیا گیا۔اور چونکہ آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والوں نے بھی اُدھر ہی منہ کرنا تھا جدھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منہ تھا اس لئے ان کا علیٰحدہ ذکر نہ کیا گیا۔اور آپ کی نماز میں ہی ان کی نماز کو شامل کر لیا گیا۔میں سمجھتا ہوں اس آیت سے یقینی طور پر یہ استدلال ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام میں نماز باجماعت کو نہایت ضروری قرار دیا ہے۔کیونکہ اس نے فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فرمایا ہے۔فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُم شَطْرَالْمَسْجِدِ الْحَــرَامِنہیں فرمایا۔اور اس کی وجہ یہی ہے کہ باقی سارے مسلمانوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اقتدائے نماز میں شامل ہونا تھا سوائے منافقوں کے جو دل سے ساتھ نہیں ہوتے اور عمل میں بھی پیچھے رہتے ہیں اور جن کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ وہ لوگ جو عشاء اور فجر کی نمازوں میں نہیں آتے۔میرا جی چاہتا ہے کہ میں اُن کے گھروں کو جلا کر راکھ کر دوں(صحیح مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلٰوة باب فضل صلوۃ الجماعۃ۔۔۔)۔پس چونکہ تمام مومنوں نے نماز میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ ہی شریک ہوجانا تھا اس لئے اُن کا علیحٰدہ ذکر کرنے کی بجائے صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو مخاطب کر کے کہہ دیا گیا کہ آپ اپنا منہ مسجدحرام کی طرف پھیر لیں۔بہرحال نماز باجماعت اسلام کا ایک نہایت ہی اہم حکم ہے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس کے متعلق اس قدر تاکید فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ ایک نابینا شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میری آنکھیں نہیں اور راستہ میں لوگ پتھر وغیرہ ڈال دیتے ہیں جن سے مجھے ٹھوکر یں لگتی ہیں۔کیا میں گھر پر نماز پڑھ لیا کروں؟ پُرانے زمانہ میں لوگ دیواروں کے ساتھ ساتھ پتھر رکھ دیا کرتے تھے تاکہ مکان بارش کے پانی سے محفوظ رہیں اور دیواریں خراب نہ ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے اجازت تو دے دی لیکن پھر فرمایا۔کیا تمہارے مکان تک اذان کی آواز آتی ہے؟ اس نے کہا یارسول اللہ آتی ہے۔آپ نے فرمایا۔پھر جس طرح بھی ہو مسجد میں آیا کرو(صحیح مسلم کتاب المساجد و مواضع الصلٰوة باب یجب ایتان المسجد )۔مگر آجکل