تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 277

نجات حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس کا طریق یہ ہے کہ اوّل ہر قسم کی منافقت اور بے ایمانی کو اپنے اندر سے دور کرنے کی کوشش کرو۔اور قوم کے ہر فرد کو ایمان اور اطاعت کی مضبوط چٹان پر قائم کر دو۔دوم صرف چندا حکام پر عمل کر کے خوش نہ ہو جائو۔بلکہ خدا تعالیٰ کے تمام احکام پر عمل بجالائو۔اور صفاتِ الٰہیہ کا کا مل مظہر بننے کی کوشش کرو۔پھر فرماتا ہے وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ۔تم شیطان کے پیچھے نہ چلو کیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔اس آیت میں خطوات کا لفظ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے کہ شیطان ہمیشہ قدم بقدم انسان کو گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔وہ کبھی یکدم کسی انسان کو بڑے گناہ کی تحریک نہیں کرتا بلکہ اسے بدی کی طرف صرف ایک قدم اٹھانےکی ترغیب دیتا ہے اور جب وہ ایک قدم اُٹھا لیتا ہے تو پھر دوسرا قدم اُٹھانےکی تحریک کرتا ہے اس طرح آہستہ آہستہ اور قدم بقدم اسے بڑے گناہوں میں ملوث کر دیتا ہے پس فرماتا ہے ہم تمہیں نصیحت کرتے ہیں کہ تمہاراصرف چند احکام پر عمل کر کے خوش ہوجانا اور باقی احکام کو نظر انداز کر کے سمجھ لینا کہ تم پکے مسلمان ہو ایک شیطانی وسوسہ ہے۔اگر تم اسی طرح احکام الٰہیہ کو نظر انداز کرتے رہے تو رفتہ رفتہ جن احکام پر تمہارا اب عمل ہے ان احکام پر بھی تمہار ا عمل جاتا رہےگا۔پس اپنے اعمال کا جائزہ لیتے رہو۔اور شیطانی وساوس سے ہمیشہ بچنے کی کوشش کرو۔فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَيِّنٰتُ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اور اگر تم باوجود اس کے کہ تمہارے پاس کھلے(کھلے) نشان آئے ڈگمگاگئے تو جان لو کہ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۰۰۲۱۰ اللہ یقیناًغالب (اور )حکمت والا ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے اگر تم اپنی اصلاح نہیں کرو گے اور طاقت اور قوت حاصل کرنے کے بعد بنی نوع انسان کی خدمت کرنے کی بجائے ان پر ظلم کرنا شروع کردوگے۔اور انہیں مالی اور جانی نقصانات پہنچائو گے تو تمہیں یاد رکھنا چاہیے کہ تمہارے سر پر ایک غالب خدا موجود ہے جو تمہیں سزا دینے کی بھی طاقت رکھتا ہے اور تم سے تمہارا اقتدار بھی چھین سکتا ہے۔پس خدا تعالیٰ سے ڈرو جو ایکدم میں تمہیں بادشاہ سے گدا اورامیر سے فقیر بنا سکتا ہے اور تمہاری عزّت کو ذلّت سے بدل سکتا ہےمگر ساتھ ہی حکیم کہہ کر بتایا کہ اس کا کوئی فعل ظالمانہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے ہر