تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 275

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْرِيْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ١ؕ اور بعض آدمی ایسے (بھی) ہوتے ہیں جو اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اپنی جان کو (ہی) بیچ ڈالتے ہیں۔وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ۰۰۲۰۸ اور اللہ (اپنے ایسے مخلص ) بندوں پر بڑی شفقت کرنے والا ہے۔حل لغات۔یَشْریْ شَرٰی سے مضارع کا صیغہ ہے اور شَرٰی کے معنے خریدنے اور بیچنے دونوں کے ہوتے ہیں۔(اقرب) رَءُ وْفٌ رَءُ وفٌ فَعُوْلٌ کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔رَءُ وْفٌ رَأْ فَۃٌ سے ہے اور رأفت کے معنے تکلیف کو دیکھ کر اس کے دور کرنے کی طرف توجہ کرنے کے ہیں۔رأفت اور رحمت دونوں ہم معنے لفظ ہیں مگر رحمت وسیع ہے اور رأفت قدرے محدود ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ کسی کو تکلیف میں دیکھ کر اُسے چھڑانا۔پس رئووف کے معنے ہوئے تکلیف میں دیکھ کر چھڑانے والا۔رحمت دُکھ و سکھ دونوں کے لئے ہوتی ہے۔مگر رأفت ہمیشہ دکھ پر ہی ہوتی ہے گویا رحمت عام ہے اور رأفت خاص۔تفسیر۔اس مثال میں بتایا کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنی جان تک کی پرواہ نہیں کرتے بلکہ اُسے بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دیتے ہیں اور جو لوگ خدا تعالیٰ کے لئے اپنی جان کو بھی قربان کرنے پر تیار رہتے ہوں وہ دوسروں کو نقصان پہنچانے کےلئے کب کوئی قدم اُٹھا سکتے ہیں؟ یہ مثال دے کر اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ تمہیں بھی آخر الذکر گروہ کا سا طریق اختیار کرنا چاہیے اور نہ صرف فتنہ و فساد سے مجتنب رہنا چاہیے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اپنی زندگیوں کو وقف کر دینا چاہیے۔وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑی شفقت کر نے والا ہے۔اس کی شفقت کا تقاضا ہے کہ تم بھی فتنہ و فساد سے بچو۔اور اپنی زندگیوں کو بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود کے کاموں میں صرف کرو تاکہ تم بھی رءوف بالعباد خدا کے مظہر بن جائو۔