تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 273

وَ اِذَا قِيْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ اور جب انہیں کہا جائے کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تو (اپنی) عزت (کی پچ) انہیں گناہ پر آمادہ کر دیتی ہے پس اس جَهَنَّمُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ۰۰۲۰۷ ( قسم کے لوگوں)کے لئے جہنم کافی ہے اوروہ یقیناً بہت بُرا ٹھکانہ ہے۔حل لغات۔اِتَّق وَقٰی یَقِیْ سے باب افتعال کا امر کا صیغہ ہے اس کے اصل معنے یہ ہیں کہ انسان اس چیز سے جو سامنے سے آرہی ہو بچنے کے لئے ہٹ جائے مگر یہ معنے اس جگہ چسپاں نہیں ہوتے کیونکہ انسان خدا تعالیٰ سے نہیں بچ سکتا۔خواہ وہ کسی جگہ چلا جائے بہر حال دوسرے معنے ہی لینے پڑیں گے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی حفاظت کا ذریعہ بنا لے (لسان العرب)۔اَخَذَ تْہُ اَلْاَخْذُ کے معنے ہیں حَوْزُ الشَّیْءِ وَتَحْصِیْلُہٗ۔۔۔۔۔وَتَارَۃً بِالْقَھْرِ۔کسی چیز کو زبردستی لے لینا یا حاصل کرنا یا پکڑ لینا (اقرب) اور اَخَذَ تْہُ بِکَذَا کے معنے ہیں حَمَلَتْہُ عَلٰی کَذَا۔اُسے کسی کام پر اکسا دیا یا اُس کی ترغیب دی۔(اقرب) اَلْعِزَّۃُ وَرُبَمَا اسْتُعِیْرَتِ الْعِزَّۃُ لِلْحَمِیَّۃِ و الْاَنْفَۃِ الْمَذْمُوْ مَۃِ۔وَمِنْہُ فِی الْقُرٓاٰنِ وَاِذَا قِیْلَ لَہُ اتَّقِ اللّٰہَ اَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بَا لْاِثْمِ (اقرب) یعنی بعض اوقات عزۃ کا لفظ بطور استعارہ جھوٹی غیرت اور پچ کےلئے بھی استعمال ہوتا ہے۔پس اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ کے معنے یہ ہوئے کہ جھوٹی قومی غیرت نے اُسے گناہ کی خاطر گھیر لیا یا اُسے گناہ پر آمادہ کر دیا۔جَھَنَّمُ دَارُ الْعِقَابِ بَعْدَ الْمَوْتِ۔یعنی جہنم موت کے بعد سزا کی جگہ کا نام ہے (اقرب) جہنم کے لئے قرآن کریم میں اور بھی کئی لفظ آتے ہیں۔جیسے جَحِیْمٌ، سَعِیْرٌ، سَقَرْ، لظٰی وغیرہ۔مِھَادٌ وہ جگہ جہاں انسان تھک کر آرام کرے جیسے بستر وغیرہ۔تفسیر۔فرماتا ہے جب اُسے کہا جائے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔تم تو دو کوڑی کے بھی آدمی نہیں تھے تمہیں تو جو کچھ ملا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے احسان کی و جہ سے ملا ہے۔تو اَخَذَتْہُ الْعِزَّۃُ بِالْاِثْمِ اُسے اپنی جھوٹی عزت کی پچ گناہوں پر اور زیادہ دلیر کرتی ہے۔اس کے دونوں معنے ہو سکتے ہیں یہ بھی کہ اس کے پہلے گناہوں اور