تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 229
علاوہ بعض اور نصائح بھی درج ہیں۔اس میں لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہؓ کو جنگ پرجاتے وقت یہ نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ لَاتَقْتُلُوْا اِمْرَءَ ۃً۔کسی عورت کو نہیں مارنا وَلَا کَبِیْرًا فَانِیًا اور کسی بڈھے شخص کو بھی نہیں مارنا۔وَلا مُعْتَزِلًا بِصَوْمَعَۃٍ۔اور عبادت گاہوں میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو بھی نہیں مارنا۔کیونکہ گووہ ایک ایسی قوم کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں جو تمہاری مخالف ہے مگر وہ خدا کا نام لیتے ہیں پھر فرماتے وَلَا تَقْرَبُوْا نَخْلًا۔کسی کھجور کے درخت کے قریب بھی نہ جانا یعنی کھجور کو نقصان پہنچانے کا خیال بھی نہ کرنا۔کیونکہ اس سے ان کے رزق پر اثر پڑتا ہے اور تمہارا حملہ ان کے حملے کو دور رکھنے کی نیت سے ہے ان کو مستقل تباہ کرنے کی غرض سے نہیں۔وَلَا تَقْطَعُوْا شَجَرًا بلکہ کوئی درخت بھی نہ کاٹنا کیونکہ وہ غریبوں اور مسافروں کو سایہ دینے کے کام آتا ہے اور تم لڑنے کے لئے جارہے ہو اس لئے نہیں جا رہے کہ وہ قوم سایہ سے بھی محروم ہو جائے۔وَلَا تَھْدِ مُوْا بِنَاءً۔اسی طرح عمارتوں کو مت گِرائو۔قلعہ کا انہدام ایک علیٰحدہ چیز ہے۔وہ جنگ کے حملے کو روکنے کے لئے ہوتا ہے۔مگر یہ جائز نہیں کہ کسی ملک کے باشندوں کو بے گھر کر دیا جائے اورا ن کے مکانوں کو گرادیا جائے یا انہیں آگ لگا دی جائے۔اسی طرح آپ کی دوسری ہدایات میں ہے کہ ملک میں ڈر اور ہراس پیدا نہ کیا جائے۔دنیوی حکومتیں جب کسی ملک میں داخل ہوتی ہیں تو اندھا دھند مظالم شروع کر دیتی ہیں محض اس لئے کہ حکومت کا رعب قائم ہو جائے۔مگر اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب مفتوحہ ممالک میں جائو تو ایسے احکام جاری کرو جن سے لوگوں کو آسانی ہو تکلیف نہ ہو(السیرۃ الحلبیۃ باب سرایاہ ؐ و بعوثہ)۔اور فرمایا جب لشکر سڑکوں پر چلے تو اس طرح چلے کہ عام مسافروں کا راستہ نہ رکے۔ایک صحابیؓ کہتے ہیں ایک دفعہ لشکر اس طرح نکلا کہ لوگوں کے لئے اپنے گھروں سے نکلنا اور راستہ چلنا مشکل ہو گیا اس پر آپ نے منادی کروائی کہ جس نے مکانوں کو بند کیا یاراستہ روکا اس کا جہاد جہادہی نہیں رہےگا۔غرض اسلام کہتا ہے کہ تم کو جنگ میں عورتوں کے مارنے کی اجازت نہیں تم کو بچوں کے مارنے کی اجازت نہیں۔تم کو بڈھوں کے مارنے کی اجازت نہیں۔تم کو بد عہدی کر نے کی اجازت نہیں۔تم کو دھوکا دینے کی اجازت نہیں۔تم کو مقتولین کے ناک کان کاٹنے کی اجازت نہیں۔تم کو پادریوں اور پنڈتوں اور گیانیوں کو مارنے کی اجازت نہیں۔تم کو کوئی باغ اور درخت کاٹنے کی اجازت نہیں۔تم کو کوئی عمارت گرانے کی یا اُسے آگ لگانے کی اجازت نہیں اور اگر کبھی ان ہدایات کی خلاف ورزی ہوئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا۔عرب کے دستور کے مطابق عورتیں بھی لڑائی میں شامل ہوتی تھیں اور چونکہ وہ دوسروں کو قتل کرتی تھیں لازماً وہ خود بھی قتل کی جاتی تھیں مگر ایک موقعہ پر ایک لڑائی کے بعد جب ایک عورت کی لاش آپ نے دیکھی تو آپ کے چہرے پرغم