تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 198
وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّيْ فَاِنِّيْ قَرِيْبٌ١ؕ اُجِيْبُ دَعْوَةَ اور (اے رسول!)جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق پوچھیں تو (تُو جواب دے کہ)میں (ان کے) پاس الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ١ۙ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ وَ لْيُؤْمِنُوْا بِيْ (ہی) ہوں۔جب دعا کرنے والا مجھے پکارے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں۔سو چاہیے کہ وہ (یعنی دعا کرنے لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ۰۰۱۸۷ والے بھی)میرے حکم کو قبول کریں اور مجھ پر ایمان لائیں تا وہ ہدایت پائیں۔حلّ لُغات۔اُجیْبُ اَجَابَ سے مضارع متکلّم کاصیغہ ہے اور اَ لْاِجَا بَۃُ کے معنے ہیں اَلْعَطَاءُ مِنَ اللّٰہِ وَالطَّاعَۃُ مِنَ الْعَبْدِ (مفردات) یعنی اجابت اگر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو تو بخشش کرنے یا دینے کے معنے ہوتے ہیں اور اگر بندے کی طرف منسوب ہو تو اس کے معنے اطاعت کے ہیں۔پس اُجِیْبُ کے معنے ہوئے میں سن کر بدلہ دیتا ہوں یا اسے قبول کرتاہوں۔وَلْیُؤْمِنُوْا بی اٰمَنَ بِہٖ کے معنے ہیں (۱) اُسے مان لیا (۲) اس کی صفات کو تسلیم کر لیا۔پس وَلْیُؤْ مِنُوْا بِیْکے یہ معنے ہوئے کہ (۱) وہ مجھے مانیں اور (۲) میری صفات کو تسلیم کریں۔لَعَلَّکُمْ لَعَلَّ مِنْ اَخَوَاتِ اِنَّ۔لَعَلَّ اِنَّ کے اَخَوات میں سے ہے۔وَذَکَرَ بَعْضُ الْمُفَسِّرِیْنَ اَنَّ لَعَلَّ مِنَ اللّٰہِ وَاجِبٌ (مفردات) اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے آئے تو اس کے معنے یقین کے ہوتے ہیں۔لَعَلَّ حروف مشبّہ بالفعل میں سے ہے اس کے ساتھ یائِ متکلم بھی لگائی جاتی ہے جیسے لَعَلِّیْ اور کبھی لَعَلَّاور یاء ِمتکلم کے درمیان نون زائد کیا جاتا ہے جسے نونِ وقا یہ کہتے ہیں جیسے لَعَلَّنِیْ۔نون کے بغیر استعمال زیادہ ہے یہ اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے جیسے لَعَلَّ زَیْدًا قَائِمٌ۔لیکن فرَّاء اور بعض دیگر نحویوں کے نزدیک اسم اور خبر دونوں کو نصب دیتا ہے جیسے لَعَلَّ زَیْدًا قَائِـمًا۔لَعَلَّکے کئی معنے ہیں (۱) پسندیدہ شے کی توقع اور ناپسندیدہ شے سے خوف ان معنوں میں یہ ایسے امر کے لئے