تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 157

اشارہ ہے اور وہ حکم وراثت کا ہی ہے ورنہ اس کا کیا مطلب کہ بدلنے کا گناہ بدلنے والوں پر ہو گا وصیت کرنے والے پر نہیں ہوگا کیونکہ اگر اس وصیت کی تفصیلات شرعی نہیں تو بدلنے والے کو گناہ کیوں ہو ؟ اُس کے گناہ گار ہونے کاسوال تبھی ہو سکتا ہے جبکہ کسی شرعی حکم کی خلاف ورزی ہو رہی ہو۔اور وہ اسی طرح ہو سکتی ہے کہ مرنے والا تو یہ وصیت کر جائے کہ میری جائیداد احکام اسلام کے مطابق تقسیم کی جائے لیکن وارث اس کی وصیت پر عمل نہ کریں۔ایسی صورت میں وصیت کرنے والا تو گناہ سے بچ جائے گا لیکن وصیت تبدیل کرنے والے وارث گناہ گار قرار پائیں گے۔فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَيْنَهُمْ پھر جو شخص کسی وصیت کرنے والے سے طرف داری یا گناہ (کے سر زد ہونے )کا خوف کرے اور ان کے درمیان فَلَاۤ اِثْمَ عَلَيْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌؒ۰۰۱۸۳ صلح کرا دے۔تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔اللہ یقیناً بہت بخشنے والا (اور )بار بار رحم کر نے والا ہے۔حلّ لُغات۔جَنَفًا جَنَفَ کا مصدر ہے اور جَنَفَ فِی الْوَصِیَّۃِکے معنے ہیں مَالَ وَجَارَ یعنی اُس نے وصیت کرتے ہوئے نا انصافی کی اور عدل کے راستہ سے ہٹ گیا۔(اقرب) تفسیر۔اب بتایا کہ اگر کسی شخص کو یہ معلوم ہو کہ موصی کی وصیّت میں کوئی نقص ہے اور خوف ہو کہ اس سے فتنہ پیدا ہو گا تو وہ ورثاء کو جمع کر کے اگر ان کے درمیان صلح کرا دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ جب اس نے شریعت کے مطابق اپنی جائیداد تقسیم کرنے کی ہدایت کی ہے تو ورثاء کو نقصان پہنچنے کا احتمال کس طرح ہو سکتا ہے؟ کیونکہ شریعت پر عمل کرنے کے باوجود وصیّت کرنے کی صورت میں بعض نقصانات کا بھی احتمال ہو سکتا ہے مثلاً اگر کوئی شخص 1/3حصّہ کی وصیّت کردے اور باقی وارث اتنے ہوں کہ بقیہ مال میں سے ان کو بہت کم حصہ ملتا ہو تو ایسی صورت میں اگروصیّت کرنے والے اور ان رشتہ داروں کے درمیان جن کو نقصان پہنچنے یا جن کے نظر انداز کئے جانے کا امکان ہو صلح کر ادی جائے یا وہ شخص جن کے حق میں وصیّت ہے ان کو باہمی سمجھوتے سے اس بات پر راضی کر لیا جائے کہ باوجود وصیت کے وہ ایک دوسرے کو اس کا حق ادا کردیںگے تو یہ کوئی گناہ کی بات نہیں۔اسے چاہیے کہ وصیت کرنے والے اور اس کے محبوب یا مبغوض ورثاء میں صلح کرا دے تاکہ کوئی فتنہ پیدا نہ ہو۔