تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 141
اَلصَّابِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآئِ وَ الضَّرَّآئِ کے مطابق اپنے حقوق کو خود چھوڑنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور سچے ہو کر جھوٹوں کا ساتذ لّل اختیار کرتے ہیں اور اگر غیروں سے ہو تو وہ بھاگتے نہیں بلکہ دلیری کے ساتھ ان کا مقابلہ کرتے اور قیام امن کے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دیتے ہیں۔اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا۔فرماتا ہے یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے صدق و وفا کا نمونہ دکھایا۔وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ اور یہی لوگ مصائب اور دکھوں سے نجات پانے والے ہیں۔ان کی یہ خصوصیت اس لئے بیان کی کہ انسان کو سب سے زیادہ تکلیف اپنے حقوق کو پامال ہوتے دیکھ کر ہوتی ہے۔دوسرے سے حسن سلوک کو تو وہ احسان سمجھتا ہے مگر جب کوئی شخص اُسے دکھ پہنچاتا ہے تو وہ اپنی ہتک محسوس کرتا ہے۔پس چونکہ یہ ان کی غیر معمولی قربانی تھی کہ انہوں نے خدا کے لئے دوسروں کے مظالم سہے اس لئے فرمایا کہ ایسے لوگوں کو میں خصوصیت کے ساتھ پیش کرتا ہوں۔یہ سچے اور راستباز لوگ ہیں جو مجھ پر ایمان لائے ہیں یعنی انہوں نے اپنے ایمان کو عملی طور پر سچا کر کے دکھا دیا ہے۔اور یہی وہ لوگ ہیں جو مصائب سے بچنے والے ہیں۔کیونکہ مصائب اگر آسمانی ہوں تو اُن کا علاج یہ ہوتا ہے کہ لوگ خدا تعالیٰ پر ایمان لائیں اور اس کی عبادت کریں اور اگر تمدنی مصائب ہوں تو ان کا علاج یہ ہوتا ہے کہ تمدنی قوانین کو مدِّنظر رکھیں۔اور یہ لوگ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے احکام پر بھی عمل کرنے والے ہیں اور تمدنی خرابیوں سے بھی بچنے والے ہیں۔پس یہ لوگ دنیا میں کبھی ذلیل نہیں ہو سکتے۔جو قوم ذلیل یاہلاک ہو گی وہ یا تو خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر ہلاک ہو گی یا تمدنی قوانین کو نظر انداز کر کے اپنی ہلاکت مول لے گی۔يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلٰى ١ؕ اے لوگو!جو ایمان لائے ہو تم پر مقتولوں کے بارہ میں برابر کا بدلہ لینا فرض کیا گیا ہے۔آزا د (قاتل )آزاد اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى١ؕ فَمَنْ (مقتول)کے بدلہ میں۔غلام (قاتل) غلام (مقتول ) کے بدلہ میں۔عورت (قاتل) عورت (مقتولہ) کے بدلہ عُفِيَ لَهٗ مِنْ اَخِيْهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ میں(قصاص کی مستحق )ہے۔جس(قاتل) کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کردیا جائے تو (مقتول کا