تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 131
کیا یہ بھی کوئی ایسی چیز تھی جسے اپنے اوپر وارد کر کے وہ صبر کرتے۔پس فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ کا یہ مطلب نہیں کہ یہ لوگ واقعہ میں بڑے صبر کرنے والے ہیں اور خدا تعالیٰ ان کے صبر کی تعریف کر رہا ہے یا ان کے صبر پر تعجب کا اظہار کر رہا ہے بلکہ یہ تعریض ہے اور اس سے لوگوں کو یہ بتلانا مقصود ہے کہ ان بیوقوفوں کی موجودہ حالت بتاتی ہے کہ یہ لوگ عذاب پر بہت ہی صبر کرنےوالے ہیں۔نہ یہ کہ عذاب پر وہ واقعہ میں صبر کریںگے کیونکہ معمولی عذاب بھی انسان کی قوتِ برداشت سے باہر ہو جاتا ہے۔لیکن اس کے علاوہ اگر مَا کو استفہامیہ قرار دیا جائے تو اس کے معنے یہ ہوںگے کہ کس چیز نے انہیں آگ پر صبر کرنےوالا بنا دیا؟ اور اگر مَا کو نافیہ قرار دیا جائے تو پھر اس آیت کے یہ معنے ہوںگے کہمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ۔اللہ تعالیٰ انہیں آگ پر صبر نہ دے۔یعنی خوب سزا دے اور وہ سزا ان کو اچھی طرح محسوس ہو۔ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِيْنَ یہ( عذاب) اس سبب سے ہوگا کہ اللہ نے اس کتاب کو( مشتمل) برحق اتارا ہے اور جن لوگوں نے اس کتاب کے اخْتَلَفُوْا فِي الْكِتٰبِ لَفِيْ شِقَاقٍۭ بَعِيْدٍؒ۰۰۱۷۷ بارہ میں اختلاف کیاہے وہ یقیناً پرلے درجہ کی عداوت میں (مبتلا)ہیں۔حل لغات۔شِقَاقٌ شَاقَّ کا مصدر ہے اور شَاقَّہٗ کے معنے ہیں خَالَفَہٗ وَعَادَاہُ۔وَحَقِیْقَتُہٗ اَنَّ کُلَّ وَاحِدٍ مِنْھُمَا فِیْ شِقٍّ غَیْرِ شِقِّ صَاحِبِہٖ یعنی اس نے اس کی مخالفت اور دشمنی کی اور اس کے حقیقی معنے یہ ہیں کہ دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کی مخالف جانب سے آیا۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے یہ عذاب انہیں اس وجہ سے ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بڑے بھاری احسانات سے کام لیتے ہوئے انہیں ایک ایسا قانون بخشا تھا جس کا ایک ایک حرف صداقت پر مشتمل ہے۔مگر ان لوگوں نے انتہا درجہ کی عداوت اور دشمنی میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اسے ٹھکرا دیا۔اور خدائی پیغام کے منکر بن گئے۔شِقَاقٍ بَعِیْدٍ سے ایسی عداوت مراد ہے جو اپنی شدت میں انتہا درجہ تک پہنچی ہوئی ہو اور جس کا سلسلہ ایک طویل مدت تک بھی منقطع نہ ہو۔