تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 122

رَّحِيْمٌ(الانعام :۱۴۶) یعنی ُتو ان سے کہہ دے کہ جو کچھ میری طرف نازل کیا گیا ہے میں تو اس میں اُس شخص پر جو کسی چیز کو کھانا چاہے سوائے مردار یا بہتے ہوئے خون یا سؤر کے گوشت کے کوئی چیز حرام نہیں پاتا۔اس لئے کہ ان میں سے ہر ایک چیز نجس ہے یا میں فسق کو حرام پاتا ہوں۔یعنی اس چیز کو جس پر خدا تعالیٰ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔لیکن جو شخص اس کے کھانے پر مجبور ہو جائے بغیر اس کے کہ وہ شریعت کا مقابلہ کرنے والا ہو یا حد سے نکلنے والا ہو یعنی وہ جان بوجھ کر ایسے موقع پر نہ گیا ہو یا کھاتے وقت ضرورت سے زیادہ نہ کھائے تو وہ یاد رکھے کہ تیرا ربّ یقیناً بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے یعنی ایسا شخص اگر ان کھانوں کو کھالے تو اللہ تعالیٰ اُس کو اُن کے بد اثرات سے بچا لے گا۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ مردہ اور بہا ہوا خون اور سؤر کا گوشت حرام کرنے کی وجہ ان کا تکلیف دہ ہونا ہے کیونکہ رجس کے معنے گند اور عذاب کے ہوتے ہیں۔پس مراد یہ ہے کہ یہ چیزیں گندی ہیں اور انسان کے لئے رُوحانی اور جسمانی طور پر موجب دکھ ہیں۔اس کے علاوہ سورۃ مائدہ آیت ۴ اور سورۃ نحل آیت ۱۱۶ میں بھی حلال اور حرام اشیاء کا ذکر ہے اور سب میں یہی چیزیںبیان کی گئی ہیں۔سوائے سورۃ مائدہ کے کہ وہاں مَیْتَۃٌ کی تشریح کر کے بتایا ہے کہ اس میں گلا گھونٹا ہوا یا لاٹھی سے مارا ہوا بھی شامل ہےا سی طرح بلندی سے گرکر مرنے والا جانور یا سینگ لگنے سے مرا ہوا جانور یا وہ جانور جسے کسی درندے نے کھا لیا ہو وہ بھی مردار کے حکم میں شامل ہے۔اُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ کو اس لئے علیحدہ بیان کیا ہے کہ اگرچہ اس سے ظاہری طور پر کوئی نقصان معلوم نہیں ہوتا مگر اس کے استعمال کرنے سے روحانی رنگ میں یہ بُرا نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان کے اندر اباحت اور بے دینی پیدا ہو جاتی ہے اور خدا تعالیٰ سے اس کا تعلق ٹوٹ جاتا ہے۔پس بائیبل نے تو بغیر کوئی حکمت واضح کرنے کے بعض چیزوں کو حرام قرار دے دیا۔مگر قرآن کریم نے حرام کرنے کی وجہ بھی بتائی ہے پس یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حلّت و حرمت کے مسائل تورات سے نقل کر لئے گئے ہیں۔فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ میں پہلی شرط تو یہ رکھی کہ یہ استثناء صرف اس شخص کے لئے ہے جو مضطر ہو جائے اور اضطرار کے معنے کسی شخص کو کسی ایسے کام پر مجبور کر دینے کے ہیں جو اس کے لئے باعثِ ضر ر ہو یا جسے وہ ناپسند کرتا ہو۔اور یہ مجبوری دو قسم کی ہوتی ہے ایک بیرونی تہدید و تخویف اور ایک اندرونی جیسے ہیجانِ جذبات اور مطالبات نیچر وغیرہ (مفردات راغب) دوسری شرط یہ رکھی کہ وہ باغی یعنی سرکش اور قانون شکن نہ ہو۔تیسری شرط یہ رکھی کہ وہ عادی یعنی حد سے گذرنے والا نہ ہو۔باغی کی مثال تو ایسی ہے جیسے کوئی اپنے کسی عیسائی دوست کے گھر میں بیٹھا ہوا ہو اور