تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 542 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 542

قبلہ کے متعلق کوئی حکم نازل ہو چکا تھا تو پھر فَلَنُوَلِّيَنَّكَکے معنے کچھ نہیں بنتے۔بعض لوگ اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ ہم تجھے والی کردیںگے (الکشاف زیر آیت ھٰذا)۔حالانکہ اگر اس کے یہ معنے ہوتے تو پھر یہاں قبلہ کا لفظ نہیں رکھنا چاہیے تھا بلکہ بَلَدًا یا کَعْبَۃً یا بَیْتًا کا لفظ رکھنا چاہیے تھا۔کیونکہ قِبْلَۃ کا لفظ اس جگہ جہت کے معنوں میں ہے اور جہت کا کوئی والی نہیں ہوتا بلکہ کسی ملک یا شہر یامکان کا والی ہوا کرتا ہے۔پس اگر نُوَلِّیَنَّکَ کے معنے والی کر دینے کے ہوتے تو پھر یوں فرمانا چاہیے تھا کہ ہم بیت اللہ یا مکہ کا تجھے والی کر دیں گے مگر خدا تعالیٰ نے قبلہ کا لفظ رکھا ہے جس کے معنے جہت کے ہیں پس یہ معنے کسی صورت میں بھی درست نہیں۔علامہ ابنِ حیّان نے نُوَلِّیَنَّکَ کے معنے یہ کئے ہیں وَلَنُمَکِّنَنَّـکَ مِنْ ذٰلِکَ (بحر محیط زیر آیت ھذا ) ہم تجھے اس قبلہ پر مضبوطی سے قائم کردیں گے۔یہ معنے بھی بتاتے ہیں کہ تحویل قبلہ کا حکم ابھی نازل نہیں ہوا تھا ورنہ قبلہ پر قائم کر دینے کے کوئی معنے ہی نہیں بنتے۔نُوَ لِّیَنَّکَ تک تو ابھی وعدہ ہی تھا اس کے بعد فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فرما کر پہلی دفعہ اللہ تعالیٰ نے کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی بتادیا کہ صرف مدینہ میں نہیں بلکہ جہاں کہیں بھی ہو۔اس کی طرف منہ کرنا یعنی یہ نہ خیال کرنا کہ چونکہ مدینہ میں بیت المقدس اور کعبہ دونوں کی طرف منہ نہیں ہو سکتا۔اس لئے یہ حکم دیا گیا ہے کہ کعبہ کی طرف منہ کرو۔جب دونوں جمع ہو سکیں تو پھر پہلے کی طرح حکم ہو گا اور دونوں کو جمع کرنا اَولیٰ ہو گا بلکہ اب یہی حکم ہے کہ کعبہ کی طرف منہ کرو۔بیت المقدس کا خیال رکھنا ہرگز ضروری نہیں۔ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر روحانی معاملات میں اس قدر تیز تھی کہ باوجود اس کے کہ آپ کو بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کا حکم تھا آپ اپنی روحانی فراست کی بنا پر اس امر پر کامل یقین رکھتے تھے کہ خانہ کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ایک نہ ایک دن ضرور نازل ہو گا۔مگر دوسری طرف خدا تعالیٰ کے حکم کا ادب آپ کو اس قدر ملحوظ تھا کہ آپ نے تحویل ِ قبلہ کے متعلق کبھی دعا نہیں فرمائی۔صرف آسمان کی طرف آپ نے اپنی نظریں رکھیں اور خدائی فیصلہ کے منتظر رہے۔آخر آپ کی اس توجۂ روحانی کی برکت سے خدا تعالیٰ نے تبدیل ِ قبلہ کے متعلق اپنا حکم نازل فرما دیا اور حکم دے دیا کہ اب بیت المقدس کی بجائے خانہ کعبہ کو قبلہ مقرر کیا جاتا ہے۔پھر فرماتا ہے۔وَحَیْثُ مَاکُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ شَطْرَہٗ اس سے پہلے فقرہ میں فرمایا تھا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِکہ تو اپنا منہ مسجدحرام کی طرف پھیردے۔اور اس فقرہ میں فرمایا ہے کہ تم جہاں کہیں ہو۔اپنے منہ اس