تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 533 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 533

امت بھی اعلیٰ درجہ کی ہو اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اعلیٰ درجہ کے لوگ نہ ملتے تو محمد رسول اللہ کی بعثت کی غرض کس طرح پوری ہوتی ؟ پس امُتِ محمدیہ کا اعلیٰ ہونا بھی ضروری تھا تاکہ وہ اسلام کی اعلیٰ درجہ کی تعلیم کو اپنے اندر جذب کر کے اس کے مطابق دُنیا کی اصلاح کر سکے۔اگر اس میں یہ قابلیت نہ رکھی جاتی تو اصلاح کا مقصد پورا نہ ہوسکتا۔اس آیت سے اُمتِ محمدیہ میں بعثتِ مامورین کا بھی ثبوت نکلتا ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُمتِ محمدیہ ؐ کو اس لئے کھڑا کیا گیا ہے کہ وہ دائمی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فیضان لوگوں کو پہنچاتی رہے مگر چونکہ یہ خطرہ تھا کہ ایک زمانہ میں خود مسلمان ہی اس فرض سے غافل ہو جائیں گے اس لئے فرمایا کہ جب یہ فیضان مسلمانوں کی بد عملی کی وجہ سے بند ہو جائے گا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود شہید بن کر دنیا میں آجائیں گے یعنی جب اُمتِ محمدیہ دوسروں کی نگرانی نہ کر سکے گی بلکہ خود نگرانی کی محتاج ہو جائیگی تو یہ رسول ہی اس کی اصلاح کریگا اسی لئے اللہ تعالیٰ نے یَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا کو پیچھے رکھا ہے اور لِتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ کو مقدّم کیا گیا ہے۔اگر اس میں صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا ذکر ہوتا تو يَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًاپہلے اور لِتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ بعد میں ہوتا۔کیونکہ صحابہؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے سکھایا تھا پھر صحابہؓ نے دوسروں کو سکھایا۔مگر قرآن کریم نے يَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا کو پیچھے رکھا ہے اس سے صاف معلو م ہوتا ہے کہيَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًاسے پہلی بعثت مراد نہیں بلکہ اس سے آپ کی دوسری بعثتیں مراد ہیں یعنی جب کبھی اُمتِ محمدیہؐ کی نگرانی میں فرق پڑ جائے گا اور مسلمانوں کا نمونہ اچھا نہیں رہےگا اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر شہید اور نگران بن کر دنیا میں آجائیں گے۔اور پھر مسلمانوں کی تربیت کر کے انہیں اس قابل بنا دیں گے کہ وہ دوسروں کی تربیت کریں غرض یہ ترتیب بتاتی ہے کہ اس جگہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بروزی بعثتوں کا ذکر ہے اور الفاظ قرآنی بھی بتاتے ہیں کہ لِتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ سے صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کے لوگ مراد نہیں بلکہ اس سے قیامت تک کے زمانہ کے لوگ مراد ہیں۔پس يَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا بھی قیامت تک سچا ثابت ہوتا رہےگا یعنی قیامت تک اُمتِ محمدیہ شاہد رہے گی اور قیامت تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی شاہد رہیں گے۔یعنی قیامت تک لوگ آپؐ سے فیضان حاصل کر کے دوسروں کو سکھاتے چلے جائیں گے اور قیامت تک محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی شاہد اور نگران کے فرائض سرانجام دیتے رہیں گے۔مگر چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جسمانی وجود کے ساتھ ہمیشہ زندہ نہیں رہ سکتے تھے اس لئے یہ آیت آپ کی بعثتِ بروزی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔اور بتاتی ہے کہ اُمتِ محمدیہؐ دوسروں کی اصلاح کے لئے کھڑی کی گئی ہے لیکن جب خوداُمت محمدیہؐ میں بگاڑ پیدا ہو