تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 351
جواب دیا ہے کہ یہ اصل میں کَانَتْ تَتْلُوْا ہے۔کانت کو اُڑا کر تَتْلُوْا کر دیا گیا اور الفاظ کو حذف کر دینا عربی زبان کی اُن خصوصیات میں سے ہے جو اُسے دوسری زبانوں سے ممتاز کرتی ہیں(البحر المحیط زیر آیت بقرة :۱۹۲)۔دوسری زبانوں میں زور دینے کے لئے تنبیہ کے الفاظ کثرت سے استعمال ہوتے ہیں۔لیکن عربی زبان میں صرف حذف سے ہی یہ فائدہ اٹھا لیا جاتا ہے۔چنانچہ کَانَتْ تَتْلُوا سے صرف تَتْلُوْا کر کے یہ مضمون واضح کیا گیا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں آپ کے دشمنوں نے بڑے زور سے یہ کام کیا تھا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن بھی اُنہی کے نقشِ قدم پر چل کر اسلام کو مٹانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور صرف کر رہے ہیں۔لیکن اِس کے علاوہ عربی محاورات میں جب کسی لمبی عادت کا ذکر کرنا ہو تو عرب ماضی کی جگہ مضارع استعمال کرتے ہیں جیسے قرآن کریم کی آیت فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْۢبِيَآءَ اللّٰهِ مِنْ قَبْلُ (البقرة:۹۲) میں تَقْتُلُوْنَ سے قَتَلْتُمْ مراد ہے اِسی طرح یہاں جو مضارع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے اِس سے یہود کی اُن لمبی سازشوں کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے جو وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ سے کرتے چلے آئے تھے اور جو اُن کی ایک رنگ میں طبیعتِ ثانیہ بن چکی تھیں۔اِسی لئے ماضی کی بجائے یہاں مضارع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔میں نے پچھلے رکوع میں بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے بنی اسرائیل کی اُن مخالفتوں کا ذکر کیا ہے جو وہ سابق انبیاء کے مقابلہ میں کرتے چلے آئے ہیں۔اور اُن کی بد اعمالیوں کے سِلسلہ کا ذکر کرتے ہوئے بات کو یہاں تک پہنچایا تھا کہ انہوں نے انبیاء سابقین کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بھی مخالفت کی۔اب اِس رکوع میں اُس سلسلہ مخالفت کی بعض اور کڑیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی جو مخالفت کر رہے ہیں یہ اُن کا ایک دیر ینہ مشغلہ ہے۔اور اُن کی یہ مخالفت انہیں خدا تعالیٰ کی مخالفت پر بھی آمادہ کر رہی ہے۔چنانچہ آیت نمبر۹۸ میں بتایا کہ یاد رکھو۔اس کلام کی دشمنی درحقیقت کلام بھیجنے والے کی دشمنی ہے اور آیت نمبر۹۹ میں بتایا کہ خدا تعالیٰ کی دشمنی گویا تمام اسبابِ روحانی اور جسمانی کی دشمنی ہے جو انسانی ترقی کے ممدو معاون ہیں۔اس لئے یہ نہ سمجھو کہ قرآن کریم کا انکار ایک معمولی بات ہے بلکہ یہ خالقِ اسباب اور قوموں کو ترقی و تنزل دینے والے سے جنگ ہے۔آیت نمبر۱۰۰ میں بتایا کہ قرآن مجید کا انکار بلا وجہ ہے کیونکہ اس کی صداقت کے زبردست دلائل موجود ہیں۔آیت ۱۰۱،۱۰۲ میں بتایا کہ یہ اپنے انبیاء سے عہد کر چکے ہیں کہ ہم آنے والے رسول کو مانیں گے