تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 325
بنائے گا جو زمین میں فساد کرے گی اور خون بہا ئے گی۔اور خدا تعالیٰ نے کہا تھا کہ تم نہیںجانتے۔مگر آخر اُن کی بات درست نکلی کہ آدمؑ کی نسل دنیا میں شیطان کے قبضہ میں چلی گئی۔اُن فرشتوں نے خدا تعالیٰ کو کہاکہ اگر ہم دنیا میں ہوتے تو یہ شرارتیں کیوں ہوتیں۔اِس پر اللہ تعالیٰ نے ہاروت و ماروت کو دنیا میں بھیج دیا۔اور فرمایا کہ تم دنیا میں جائو ہم دیکھیں گے تم کیسے عمل کرتے ہو۔وہ دنیا میںآگئے اور لوگوں میں رہے۔ان کو اسم اعظم اور جادو آتا تھا۔وہ لوگوں کو جادو سکھاتے رہے اور خدا تعالیٰ پر یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ لوگ جان بُوجھ کر کفر اختیار کر تے ہیں وہ ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیتے کہ اِس کا سیکھنا منع ہے۔اس سے انسان کافر ہو جاتا ہے۔اب جس کی مرضی ہے سیکھ لے اور جس کی مرضی ہے نہ سیکھے مگر لوگ پھر بھی سیکھ لیتے۔وہ صرف مردوں کو سحر سکھایا کرتے تھے جس کے نتیجہ میں عورتوں سے جدائی ہو جاتی تھی۔اِسی دوران میں زُہرہ نامی ایک کنچنی اُن سے اسم اعظم سیکھنے کے لئے آئی۔وہ دونوں اُس پر عاشق ہو گئے۔چنانچہ اُن دونوں نے اُسے ایک دن شراب پلائی اور اُس کے ساتھ بدکاری میں مبتلا ہوئے۔اِس پر خدا تعالیٰ نے اُن سے پُوچھا کہ اب بتائو اِس کی سزا میںتم دنیا میں کنوئیں میں لٹکنا چاہتے ہو یا قیامت کے دن تم کو سزا ملے چونکہ انہوں نے خدا کا عذاب دیکھا ہوا تھا اس لئے انہوں نے کہا کہ دنیا میں ہی ہمیں عذاب دےدیا جائے۔چنانچہ بابل میں ایک اندھے کنوئیں میں گرائے گئے اور وہ اُس میں اب تک لٹکے ہوئے ہیں۔اور زُہرہ جس نے اسم اعظم سیکھا تھا عوام کے نزدیک ستارہ بن کر آسمان پر چلی گئی۔(تفسیر محاسن التـأویل للقاسمی زیر آیت ھٰذا) اُن کے نزدیک آسمان پر جو زہرہ ستارہ دکھائی دیتا ہے وہ وہی کنچنی ہے جو ہاروت و ماروت کے پاس آئی تھی۔کشمیریوں نے تو اس کے متعلق حد ہی کر دی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ہاروت و ماروت کا کنواں کشمیر میں ہے۔گویا وہ بابل سے اُٹھ کر وہاں جا پہنچے تھے۔اِن خرافات کو پیش کر کے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ فرشتوں نے جو اعتراض کیا تھا وہ درست نکلا۔اللہ تعالیٰ نے پہلے آدم ؑکو بھیجا۔مگر اُس کی نسل خراب ہو گئی۔پھر اللہ تعالیٰ نے دو فرشتے بھیجے۔مگر وہ بھی انسانوں کی وجہ سے خراب ہو گئے۔حالانکہ اُن کا یہ نتیجہ سراسر غلط ہے۔خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں واضح الفاظ میں فرمایا ہے کہ ملائکہ سب کے سب نیک ہوتے ہیں اور اُن میں خدا تعالیٰ کی نافرمانی کا مادہ ہی نہیں پایا جاتا۔لیکن انسانوں میں بعض نیک اور بعض بد ہوتے ہیں۔اگر انسان خراب ہو گئے تھے تو اعتراض ہوتا ہے کہ آدمیوں کے مقابلہ میں فرشتے بھی خراب ثابت ہوئے۔اس سے تو اعتراض دور نہ ہوا بلکہ اور بھی پختہ ہو گیاکہ خدا تعالیٰ نے جن کے متعلق فرمایا تھاکہ وہ نہیں بگڑیں گے۔وہ بھی بگڑ گئے۔انسانوں کے متعلق تو فرمایا تھا کہ اُن میںکچھ نیک اور کچھ بد ہمیشہ رہیں گے مگر فرشتوں کے متعلق تو یہ کہا گیا تھا کہ لَا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ يَفْعَلُوْنَ