تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 319
ان معنوں میں مُصّدِق ہیں کہ آپ نے اپنی بعثت سے اُن کی پیشگوئیوں کو سچا ثابت کر دیا اور موسیٰ ؑ اور عیسیٰ ؑ اور دوسرے اسرائیلی نبیوں کی سچائی ظاہر ہو گئی۔اب یہ ان لوگوں کا کام ہے کہ وہ اپنی کتاب کی لاج رکھتے ہوئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئیں یا اسے ردّ کر دیں۔مگر جیسا کہ آیت کے اگلے ٹکڑہ میں بیان کیا گیا ہے یہود نے اِن پیشگوئیوں سے کوئی فائدہ نہ اُٹھایا اور انہوں نے کتاب اللہ کو اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا۔اس جگہ کِتٰب اللّٰہِ سے مراد تورات ہے اور اسے اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دینے سے یہ مراد ہے کہ وہ اس کے ساتھ ایسی تذلیل کے ساتھ پیش آتے ہیں کہ گویا وہ اسے اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک رہے ہیں۔حالانکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کا انہیں ادب کرنا چاہیے تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب تو الگ رہی نبیوں کے کلام کی تحقیر بھی انسان کو ہلاک کر دیتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کسریٰ کو جو تبلیغی خط لکھا تھا وہ اُس نے اپنی بیوقوفی سے پھاڑ ڈالا تھا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا۔اس نے ہمارا خط پھاڑا ہے خدا اس کی سلطنت کو تباہ کرے(بخاری کتاب العلم باب ما یذکر فی المناولۃ۔۔۔۔)۔چنانچہ تھوڑے ہی عرصہ کے بعد اس کی سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔اگر محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک خط کو پھاڑ کر انسان اتنی سزا کا مستحق ہو سکتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی کتاب کو اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینکنے والا اور اُس کی تذلیل کرنے والا کتنی سزا کا مستحق ہو گا۔جب اللہ تعالیٰ اپنے رسول کا خط پھاڑنے والے کو تباہ کر دیتا ہے تو وہ اپنے خط کی تذلیل کس طرح برداشت کر سکتا ہے۔وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّيٰطِيْنُ عَلٰى مُلْكِ سُلَيْمٰنَ١ۚ وَ مَا نیز وہ (یعنی یہودی )اس (طریق عمل) کے پیچھے پڑ گئے جس کے پیچھے سلیمان ؑ کی حکومت کے زمانہ میں( اس کی كَفَرَ سُلَيْمٰنُ وَ لٰكِنَّ الشَّيٰطِيْنَ كَفَرُوْا يُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ حکومت کے) باغی پڑے رہتے تھے۔اور سلیمان ؑ کافر نہ تھا بلکہ (اس کے ) باغی کافر تھے۔وہ لوگوں کو دھوکا دینے السِّحْرَ١ۗ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَ والی باتیں سکھاتے تھے اور (بزعم خود) اس بات کی (بھی نقل کرتے ہیں) جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت و ماروت