تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 260

پسِ پُشت ڈالدیا ایسے لوگوں کو ہم ذلیل اور رُسوا کریں گے کیونکہ یہ لوگ جب اپنی مرضی کے خلاف کوئی بات دیکھتے ہیں تو بڑے بڑے احکام کی پروا نہیں کرتے اور جب اپنی مرضی کے مطابق پاتے ہیں تو مان لیتے ہیں۔حالانکہ سچا مومن وہ ہے جو ہر بات میں خدا تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھے۔حضرت خلیفۃ المسیح اوّل رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ایک شخص جو زانی تھا میں نے اس کو نصیحت کی کہ یہ کام چھوڑ دو۔وہ کہنے لگا۔میں نے تو فلاں عورت سے عہد کیا ہوا ہے کہ تم سے بیوفائی نہیں کروں گا۔اگر آپ فرماتے ہیں تو میں بیوفائی کا جرم کر لیتا ہوں۔گویا اُس شخص نے بے وفائی اور عہد کے توڑنے کو تو گناہ سمجھا لیکن زنا کے متعلق کسی گناہ کا خیال نہ آیا۔پس مومن کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر وقت ہوشیار رہے اور یہود کی طرح خدا تعالیٰ کے احکام کے ساتھ یہ تمسخر نہ کرے کہ جس حکم پر جی چاہا عمل کر لیا اور جس کے متعلق جی چاہا اُسے نظر انداز کر دیا۔چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر دی تھی کہ ایک زمانہ میں مسلمان بھی یہود کے نقش قدم پر چلیں گے اور وہ اس طرح ایک دوسرے کے مشابہ ہو جائیں گے جس طرح ایک بالشت دوسری بالشت کے اور ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کے مشابہ ہوتا ہے۔(بخاری کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ باب قول النبی لا تتبعن سنن من کان قبلکم) اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ جب اسلام پر تنزل کا دور آیا تو وہ تمام خرابیاں جو یہود میں پائی جاتی تھیںایک ایک کر کے مسلمانوں میں بھی پیدا ہونے لگ گئیں۔یہود کو کہا گیا تھا کہ لَا تَسْفِكُوْنَ دِمَآءَكُمْ دیکھواپنی قوم کے افراد سے مت لڑو۔اور اُن کا خون مت بہائو۔ورنہ تم کمزور ہو جائو گے۔اور یہی نصیحت مسلمانوں کو بھی کی گئی تھی۔مگر اسلام کے دَورِ تنزل کی تاریخ اس بات پر شاہدہے کہ مسلمانوں نے خود مسلمانوں کا خون بہایا۔اور اپنی حکومتوں کو تباہ کرنے کے لئے انہوں نے ہر قسم کی خفیہ ریشہ دوانیوں اور سازشوں سے کام لیا یہاں تک کہ عیسائی حکومتوں سے معاہدہ کر کے مسلمان حکومتوں کا تختہ اُلٹنے کی بھی شازشیں کیں۔چنانچہ خلافتِ اندلس نے روما کے عیسائی بادشاہ سے خفیہ معاہدہ کیا کہ وہ اُس کے ساتھ مل کر خلافتِ عباسیہ کو تباہ کرے گی اور عباسی حکومت نے شاہِ فرانس سے مل کر یہ معاہدہ کیا کہ وہ سپین کی اسلامی حکومت کو متزلزل کرنے کے لئے اس کا ساتھ دے گی۔گویا انہوں نے اپنے ہاتھ اپنے بھائیوں کے خون سے رنگے۔اور یہ نہ سمجھا کہ اسلامی سیاست میں مسیحیوں کو داخل کر کے وہ اسلام کو کتنا بڑا نقصان پہنچا رہے ہیں۔اسی طرح صلاح الدین ایوبی جب سارے یورپ کے مقابلہ میں لڑ رہا تھا۔اُس وقت مسلمان اور عیسائی حکومتوں نے باہم معاہدہ کر کے اس کو قتل کرنے کی سازش کی اور آخر ایک مسلمان کو ہی اس کام پر مقرر کیا گیا اور اُس نے صلاح الدین پر نماز پڑھتے ہوئے قاتلانہ حملہ کر دیا گو اللہ تعالیٰ نے اُس پر فضل کیا اور وہ اس قاتلانہ حملہ سے محفوظ رہا۔