تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 1 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 1

لفظ سورۃ اور اس کے معانی سورۃ کے معنی عربی زبان میں مندرجہ ذیل ہیں۔(۱) مَنْزِلَـۃٌ یعنی درجہ (۲) شَرَفٌ یعنی بزرگی ،بڑائی (۳) عَـلَا مَۃٌ یعنی نشان (۴) اونچی دیوار یا عمارت جو خوبصورت بھی ہو۔(اقرب الموارد) (۵) یہ لفظ سُؤْرَۃٌ سے بھی ہو سکتا ہے یعنی اس میں ہمزہ ہے جو ماقبل مضموم کی وجہ سے وائو سے بدل گیا ہے۔اس لفظ کے معنی بقیہ کے ہیں۔عرب کہتے ہیں جَآءَ فِیْ اَسْأَرِ النَّاسِ یعنی وہ قوم کے بقیہ لوگوں میں سے ہے۔(الجامع لاحکام القرآن للقرطبی باب ذکر معنی السورۃ۔۔) (۶) ایسی شے جو پوری اور مکمّل ہو۔عرب جوان تندرست اونٹنی کو سورۃ کہتے ہیں۔(الجامع لاحکام القرآن للقرطبی) (آئندہ اس تفسیر کا حوالہ دیتے وقت سارے نام کی جگہ صرف قرطبی لکھا جائے گا) سُوْرَۃ کی جمع سُوَرٌہے یعنی سورتیں۔قرآن کریم کے بعض ٹکڑوں کو سورۃ کہے جانے کی وجہ قرآن کریم کے بعض ٹکڑوں کو سُوْرَۃٌ کیوں کہتے ہیں؟ اس کے متعلق مختلف علماء نے مختلف توجیہات بیان کی ہیں۔بعض کے نزدیک اس لئے کہ ان کے پڑھنے سے انسان کا درجہ بڑھتا ہے۔بعض کے نزدیک اس لئے کہ اس سے بزرگی حاصل ہوتی ہے بعض کے نزدیک اس لئے کہ سورتیں مضامین کے ختم ہونے کا نشان ہیں۔بعض کے نزدیک اس لئے کہ وہ ایک بلند اور خوبصورت روحانی عمارت کو دنیا کے سامنے پیش کرتی ہیں۔بعض کے نزدیک اس لئے کہ وہ سارے قرآن کا بقیہّ یا حصّہ ہیں۔بعض کے نزدیک اس لئے کہ ان کے اندر ایک مکمل او رپورا مضمون آ جاتا ہے۔یہ امر ظاہر ہے کہ یہ اختلاف صرف ذوقی ہے