تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 453

لئے کہ وہ اپنے ساتھیوں کے لئے نمونہ تھے۔چنانچہ جب اٰدَمَ اَھْلَہٗ کہیں تو اس کے معنے ہوتے ہیں صَارَ لَہُمْ اُسْوَۃً کہ وہ اپنے خاندان کے لئے نمونہ بن گیا۔یا اس وجہ سے کہ وہ سطح زمین پر رہتے تھے کیونکہ سطح زمین کو اَدِیْمُ الْاَرْضِکہتے ہیں۔یا اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور بندوں کے درمیان ایک وسیلہ تھے۔کیونکہ اَ لْاُدْمَۃُ کے معنے اَلْوَسِیْلَۃُ کے بھی ہیں۔(اقرب) اَ لْاَسْمَآءَ۔اَ لْاَسْمَآءَ اِسْمٌ کی جمع ہے اور اَ لْاِسْمُ کے معنے ہیں اَللَّفْظُ الْمَوْضُوْعُ عَلَی الْجَوْھَرِ وَالْعَرَضِ لِتَمْیِیْزِہٖ کہ جو لفظ کسی چیز کی حقیقت کے بیان کے لئے او راس کی صفات کے بیان کے لئے لاتے ہیں اسے اسم کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے نیز کہتے ہیں اِسْمُ الشَّیْ ءِ عَلَامَتُہٗ کہ کسی چیز کو پہچاننے کے لئے جو اس کے بالمقابل لفظ رکھا جاتا ہے اسے اس کا اسم کہتے ہیں (اقرب) کلیاتِ ِاَبی البقاء میں ہے اَ لْاِسْمُ۔ذَاتُ الشَّیْ ءِ وَالْاِسْمُ اَیْضًا اَلصِّفَۃُ کہ اسم اس کو بھی کہیں گے کہ جو کسی چیز کی حقیقت اور ذات کو بیان کرے۔اور اس کو بھی کہیں گے جو اس چیز کی صفات کو بیان کرے۔(کلیات) عَرَضَھُمْ۔عَرَضَھُمْ عَرَضَ الشَّیْ ءَ لَہٗ کے معنے ہیں اَظْہَرَہٗ لَہٗ اس کے سامنے کسی چیز کو پیش کیا۔اور جب عَرَضَ المَتَاعَ لِلْبَیْعِ کہیں تو معنے یہ ہوں گے کہ اَظْھَرَہٗ لِذَوِی الرَّغْبَۃِ لِیَشْتَرُوْہُ کہ سامان خریداروں کے سامنے پیش کیا۔اور عَرَضَ الشَّیْ ءَ عَلَیْہِ کے معنے ہیں اَرَاہُ اِیَّاہُ۔اسے کوئی چیز دکھائی۔(اقرب) اَنْبئُوْنِیْ۔اَنْبِئُوْنِیْ امر جمع کا صیغہ ہے۔اور اَنْبَاَہُ الْخَبَرَکے معنی ہیں خَبَّرَہٗ اس کو خبر دی (اقرب) پس اَنْبِئُوْنِیْ کے معنے ہوں گے مجھے خبر دو۔صٰدِقِیْنَ۔صٰدِقِیْنَ صَدَقَ (یَصْدُقُ) صَدْقًا وَصِدْقًاسے اسم فاعل جمع کا صیغہ ہے۔اور صَدَقَ فِی الْحَدِیْثِ کے معنے ہیں اس نے سچی سچی بات کہی (اقرب) صَدَقَہُ الْحَدِیْثَ اَنْبَأَہٗ بِالصِّدْقِاُسے اُس نے جو بات کہی وہ درست تھی (اقرب) تاج العروس میں ہے صَدَقَنِیْ فُـلَانٌ۔قَالَ لِیَ الصِّدْقَ یعنی اس نے جو بات کہی درست تھی (تاج) بخاری اور مسلم میں حدیث ہے کہ ایک دفعہ جبرائیل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک سوال کیا۔اور آپ کے جواب پر اس نے کہا صَدَقْتَ یعنی آپ نے درست کہا۔یہ نہیں کہ آپؐ نے سچ بولا۔پس اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ کے معنے ہوںگے اگر تم درست بات کہہ رہے ہو۔تفسیر۔آیت وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَمیں اسماء سے مراد آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے کیا نام سکھائے اس میں مفسرین نے اختلاف کیا ہے بعض نے کہا ہے کہ اشیاء کے نام سکھائے مثلاً پیالہ کا نام پیالہ۔ہنڈیا کا