تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 376

یَضْرِبُ بمعنی یَجْعَلُ کا ثانی ہے۔بعض نے یہی توجیہ کی ہے مگر اسے مفعول اوّل مؤخر قرار دیا ہے بعض نے کہا ہے کہ بَعُوْضَۃً کو نصب اِسقاطِ جار کی وجہ سے آئی ہے اور آیت یوں ہے اَنْ يَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَیْنَ بَعُوْضَةٍ اِلٰی مَا فَوْقَهَا یعنی اللہ تعالیٰ اس سے نہیں رُکتا کہ مچھر سے لے کر اس سے بہت چھوٹی چیز تک کسی بات کو بیان کرے۔اس آخری امر کو فَرّاء اور کسائی جیسے ائمہ نحو نے ترجیح دی ہے (ابن کثیر زیر آیت ھٰذا) اور یہی توجیہ سب سے درست ہے عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ اگر کوئی لفظ مجرور ہو یعنی اس پر لفظاً یا معناً زیر آئی ہو اور پھر زیر دینے والے لفظ کو وہاں سے حذف کر دیا جائے تو اس زیر والے لفظ کی زیر نصب سے بدل جاتی ہے یعنی لفظاً یا مقاماً اس پر زبر آ جاتی ہے اس جگہ چونکہ بَعُوْضَۃً کی طرف بَیْنَ کا لفظ مضاف تھا جسے اس لئے حذف کر دیا گیا کہ فَمَا فَوْقَہَا اس پر دلالت کر رہا تھا اس لئے بَعُوْضَۃً کی جرَ نصب سے بدل گئی اور بَعُوْضَۃٍ کی جگہ بَعُوْضَۃً ہو گیا۔اس توجیہ کے مطابق جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے آیت کے معنے یہ ہوئے کہ خواہ ایک مچھر کے برابر بات ہو یا اس سے بھی چھوٹی ہو اگر اس کے بیان کرنے میں کوئی فائدہ ہو تو اللہ تعالیٰ اسے بیان کر دیتا ہے اور اس کی پرواہ نہیں کرتا کہ لوگ کہیں گے کہ ایسی بات بیان کرنے سے کیا فائدہ؟ میرے نزدیک یہی توجیہہ سب سے درست ہے مگر میرے نزدیک محذوف بجائے بَیْنَ کے لفظ کے مَثَل کا لفظ نکالنا زیادہ مناسب ہے یعنی مچھر کے برابر یا اس سے بھی چھوٹا۔عربی زبان میں مچھر کو چھوٹی بات کی تمثیل کےلئے لاتے ہیں عربی زبان میں مچھر کو چھوٹی بات کی تمثیل کے لئے لاتے ہیں چنانچہ حدیث میں آتا ہے لَوْ کَانَتِ الدُّنْیَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللّٰہِ جَنَاحَ بَعُوْضَۃٍ مَاسَقٰی کَافِرًا مِنْہَا شَرْبَۃَ مَاءٍ (ترمذی ابواب الزہد باب ماجاء فی ہوان الدنیا علی اللہ) یعنی اگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی قیمت مچھر کے پَر کے برابر بھی ہوتی تو اللہ تعالیٰ کافر کو اس میں سے ایک گھونٹ پانی بھی پینے نہ دیتا۔اس حدیث سے اِس آیت کے لفظوں اور معنوں دونوں پر روشنی پڑتی ہے۔معنوں پر تو اس طرح کہ اس دنیا اور آخرت کی زندگی میں کوئی حقیقی مشابہت نہیں کیونکہ فرمایا گیا ہے کہ اس دنیا کی نعمتوں کی اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ایک مچھر کے پَر کے برابر بھی قیمت نہیں او رلفظی مشابہت اس سے ثابت ہے کہ حدیث میں چھوٹا پَن بیان کرنے کے لئے مچھر کے پَر کی مثال دی ہے اور اس حدیث کے معنوں کو مدِّنظر رکھتے ہوئے ہم مچھر سے بھی چھوٹے کے معنے مچھر کے پَر کے کر سکتے ہیں اور آیت کے معنے یہ ہو سکتے ہیں کہ ایک مچھر کے برابر بلکہ اس کے پَر کے برابر بھی کوئی بات بیان کرنی پڑے تو اللہ تعالیٰ اس سے نہیں رُکتا۔آیت اَنْ يَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا کے مطالب کی تفسیر لفظوں اور عبارت کی تشریح کرنے کے بعد اب میں