تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 105
میں ہیں مثلاً عٰلِمُ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ (السّجدۃ:۷)تِلْكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَيْنٰهَاۤ اِبْرٰهِيْمَ (الانعام :۸۴) قرآن کریم میں دوسری جگہ ذٰلِكَ الْكِتٰبُ کی جگہ ھٰذَا کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ مُبٰرَکٌ (الانعام : ۹۳)بھی آیا ہے۔غرض اوّل تو ذٰلِکَ عرب کے محاورہ کے مطابق ھٰذَا کے معنوں میں بھی استعمال ہو جاتا ہے۔دوم ضروری نہیں کہ جس چیز کے بارہ میں ذٰلِکَ آئے وہ دُور ہو۔اگر ذہنی طورپر دُور ہو یعنی اس کا ذکر ختم ہو چکا ہو تو اس کے لئے بھی ذٰلِکَ کالفظ استعمال کر لیا جاتا ہے۔ذٰلِکَ الْکِتَابُکے چار معنے اس تشریح کے ماتحت ذٰلِكَ الْكِتٰبُ کے کئی معنے ہو سکتے ہیں (۱) یہ وہ کتاب ہے (۲) وہ یہ کتاب ہے (۳) یہی کامل کتاب ہے (۴) وہی کامل کتاب ہے۔ذٰلِکَ الْکِتَابُ کی ترکیب مذکورہ بالا معانی اس صورت میں ہیں کہ ذٰلِک مبتدا ہو اور اَلْکِتاب خبر۔لیکن ایک صورت یہ بھی ہے کہ ذٰلِکَ کو مبتدا اور اَلْکِتَابُ کو عطف بیان اور لَارَیْبَ فِیْہِ کو اس کی خبر سمجھا جائے اس صورت میں اس کے معنی یوں ہوںگے (۱) یہ یعنی کامل کتاب اپنے اندر کوئی رَیْبکی بات نہیں رکھتی (۲) وہ کامل کتاب (یعنی ہدایت انبیاء) اپنے اندر کوئی رَیْب کی بات نہیں رکھتی۔ذٰلِکَ الْکِتَابُ کے تین تفسیر ی معنے لغوی معنے بیان کرنے کے بعد اب میں تفسیری معنی بیان کرتا ہوں۔(۱) جن لوگوں نے الٓمّٓ کو سورۃ کا نام قرار دیا ہے انہوں نے یہ معنے کئے ہیں کہ الٓمّٓ یہ کتاب ہے یعنی الٓمّٓ نام ہے اس سورۃ کا۔یا یہ معنے کئے ہیں کہ الٓمّٓ ایک کامل کتاب ہے (۲) جنہوں نے ذٰلِکَ کا استعمال قرآن کریم کی عظمت شان کی وجہ سے قرار دیا ہے انہوں نے یہ معنے کئے ہیں کہ یہ عظیم الشان کلام وہ کتاب ہے جس کی تعریف ُصحف ِ موسیٰ اور دوسری کتب میں آ چکی ہے (۳) بعض نے اشارۂ بعید لے کر یہ معنی کئے ہیں کے لوحِ محفوظ میں جو کتاب ہے وہ یہی ہے یعنی قرآنِ کریم۔مگر یہ معنے بہت بعید ہیں اور الفاظ قرآنی ان کی تصدیق نہیں کرتے۔اس رنگ میں بعض اور معنے بھی مفسّرین نے کئے ہیں مگر وہ سب کے سب اسی طرح بعید از قیاس ہیں اور ان کے لکھنے کی ضرورت نہیں۔میرے نزدیک ان تینوں قسم کے معنوں میں سے دوسرے معنے ہی ایسے ہیں جو الفاظ قرآنیہ کے مطابق ہیں۔کیونکہ مشہور عام بات کی طرف اس طرح اشارہ کیا جاسکتا ہے۔چونکہ پہلے ادیان کے لوگ ایک کتاب کے منتظر تھے۔انہیں مخاطب کر کے قرآن شریف کے شروع میں کہا جا سکتا تھا کہ جس کتاب کے تم منتظر ہو یہ وہی کتاب ہے۔مگر میرے نزدیک زیادہ صحیح معنے جو الفاظ قرآنیہ کے بالکل مطابق ہیں۔دو ہیں۔۱۔یہی کامل کتاب ہے۔عرب لوگ کہتے ہیں زَیْدُنِ ا لْعَادِلُ زید ہی عادل ہے اسی طرح یہ جملہ ہے۔ذٰلِكَ