تفسیر کبیر (جلد ۱۵) — Page 442
پرورش سے نہیں ہوتا، بیل یا گھوڑے کی پرورش سے نہیں ہوتا بلکہ ابو جہل کی پرورش سے ہوتا ہے کہ جس نے خدا تعالیٰ کا مقابلہ کیا۔فرعون کی پرورش سے ہوتاہے جو خدا تعالیٰ کو گالیاں دیتا تھا۔بے شک انسان بھی نیک سلوک کرتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی رحمانیت دشمن پر بھی ظاہر ہوتی ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَ هٰۤؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَ۔(بنی اسـرآءیل:۲۱ ) یعنی ہم مومن او رکافر سب کی مدد کرتے چلے جاتے ہیں وَ مَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا۔(بنی اسـرآءیل:۲۱ ) اور تیرے رب کی عطاء کسی فرقے اور قوم سے روکی نہیں گئی۔پس رحمانیت کا مظہر کامل انسان ہی ہے۔دیکھو ابوجہل نے کس طرح مخالفت کی مگر اللہ تعالیٰ پھر بھی اس سے سلوک کرتا گیا۔فرعون کس قدر مخالفت کرتاتھا مگر پھر بھی اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کا نزول اس پر ہوتا تھا۔زندگی کا زمانہ تو الگ رہا ابوجہل اور فرعون کی مرتے وقت کی دعا بھی اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔فرعون نے مرتے وقت ایمان کا اظہار کیا اور بالفاظ دیگر اپنی نجات کے لئے دعا کی۔اللہ تعالیٰ کی رحیمیت کا تقاضا تھا کہ یہ دعا قبول نہ ہو مگر رحمانیت اس کی قبولیت کی متقاضی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اچھا ہم تیرے بدن کو نجات دیتے ہیں۔ابوجہل نے دعا کی تھی کہ اے اللہ! اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سچا ہے تو ہم پر پتھر برسا اور اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ اچھا پتھر برسادو۔تواللہ تعالیٰ نے ان کے مرتے وقت کی دعائیں بھی قبول کیں۔چاہے بےوقوفی سے انہوں نے ایسے وقت میں دعائیں کیں کہ وہ ان سے فائدہ نہ اٹھا سکتے تھے۔پتھر برسنے کے بعد بھلا ابوجہل کو کیا فائدہ ہو سکتا تھا اور بدن کو نجات ملنے سے فرعون کو کیافائدہ ہوا؟ تو درحقیقت رحمانیت ایک لحاظ سے تو تمام مخلوق پر ظاہر ہوتی ہے۔مگر ایک لحاظ سے انسان پر ہی اس کا اظہار ہوتا ہے۔بےشک جانور اور کیڑوں مکوڑوں پر بھی رحمانیت کا اظہار ہوتاہے مگر حقیقی اظہار رحمانیت کا اس وقت ہوتاہے جب ایک انسان خدا کو گالیاں دے رہاہوتاہے۔مگر اس وقت بھی اس کی زبان کو اللہ تعالیٰ خون بھیج رہا ہوتاہے۔پس رحمانیت کا مظہر کامل انسان ہے۔مَلِکِ النَّاسِ کی آیت صفت رحیمیت پر دلالت کرتی ہے لمبا او رمتواتر انعام دینا بادشاہ کا ہی کام ہے۔مغلوں کی دی ہوئی جاگیریں آج بھی لوگ کھا رہے ہیں۔بلکہ مغل تو قریب کے زمانہ میں ہی ہوئے ہیں۔پٹھانوں کی دی ہوئی جاگیریں بھی آج تک لوگ کھا رہے ہیں۔یہ بھی قریب کا زمانہ ہے ہندوستان میں ایسے جاگیر دار بھی ہیں جن کو ہندو راجائوں نے جاگیریں دی تھیں۔اور جاگیر دار پندرہ پندرہ سو اور دو دو ہزار سال سے ان جاگیروں کو کھارہے ہیں۔پس رحیمیت ملکیت کا ہی نظارہ ہے۔حضرت دائود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں جوان تھا۔اب بوڑھا ہوا پر میں نے صادق کو ترک کئے ہوئے اور