تفسیر کبیر (جلد ۱۴) — Page 5
اور آپ نے فرمایا اَفْلَحَ الرُّوَیْـجِلُ اَفْلَحَ الرُّوَیْـجِلُ اور اس کے بعد وہ شخص چلا گیا تو اس کے چلے جانے کے بعد آپ نے فرمایا اسے واپس بلائو۔جب وہ واپس آیا تو آپ نے فرمایا۔اُمِرْتُ بِیَوْمِ الْاَضْـحٰی جَعَلَہُ اللہُ عِیْدًا لِھٰذِہِ الْاُمَّۃِ فَقَالَ لَہُ الرَّجُلُ أَرَأَیْتَ اِنْ لَّمْ اَجِدْ اِلَّا مَنِیْحَۃً اُنْثٰی اَفَاُضَـحِّیْ بِـھَا قَالَ لَا وَلٰکِنَّکَ تَاْخُذُ مِنْ شَعْرِکَ وَتُقَلِّمُ اَظْفَارَکَ وَتَقُصُّ شَارِبَکَ وَ تَـحْلِقُ عَانَتَکَ فَذٰلِکَ تَـمَامُ اُضْـحِیَّتِکَ عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ( سنن نسائی کتاب الضحایا باب من لم یجد الاضحیۃ)۔یہی حدیث ابو دائود اور نسائی نے بھی روایت کی ہے۔مگر عبد اللہ بن عمرو سے نہیں بلکہ عبد الرحمٰن الحضرمی سے۔گویا اصل حدیث کے آخر میں یہ بھی آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس بلا کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یوم الاضحی یعنی عید الاضیحہ کا بھی حکم دیا ہے اللہ تعالیٰ نے یہ اس اُمت کے لئے عید بنائی ہے اس نے کہا یا رسول اللہ یہ تو بتایئے یعنی آپ کی اس بارہ میں کیا رائے ہے کہ اگر میرے پاس اونٹ یا بکری نہ ہو صرف میرے پاس ایک اونٹنی ہو جو کسی نے تحفۃً دی ہو تو کیا میں اسے عید الاضحیہ پر ذبح کر دوں؟ رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ نہ۔ایسا ہرگز نہ کرنا بلکہ اپنے بال منڈوانا، اپنے ناخن ترشوانا، اپنی مونچھوں کے اگلے حصے کے بال چھوٹے کروانا اور زیر ناف بالوں پر اُسترا پھیرنا جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمہاری قربانی ہو گی۔کسی سورۃ کے ثلث یا ربع قرآن ہونے کا مطلب ان روایات کے متعلق یہ نکتے یاد رکھنے کے قابل ہیں۔اوّل یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کسی ایک چھوٹی سی سورۃ کو نصف القرآن یا ثلث القرآن یا ربع القرآن کس طرح کہا جا سکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام ایسا مذہب ہے جو عالم، جاہل، بُڈھے، جو ان سب کے لئے ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم خود متواتر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قرآن کریم اس لئے نازل کیا گیا ہے کہ لوگ اس کو پڑھیں، یاد کریں اور اس پر عمل کریں اور یہ زور اس حد تک دیا گیا ہے کہ ایک سچا مسلمان اس سے شدید طور پر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔جو شخص اسلام کے ساتھ کچھ بھی حقیقی دلچسپی رکھتا ہے خواہ وہ کتنی ہی کم ہو وہ اس بات کا اقرار کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس کی ایمانی زندگی کا مدار صرف اور صرف قرآن کریم پر ہے اور یہ کہ وہ اتنا ہی خدا تعالیٰ کے قریب جا سکتا ہے جتنا قریب کہ وہ قرآن کریم کے گیا ہے۔ان حالات میں ایک بڈھا جس کی زبان نہیں چلتی ایک جاہل عورت جس کا حافظہ کام نہیں دیتا ایک غیر عرب جو عربی زبان سے مانوس نہیں ہے اور اس قدر فرصت بھی اس کو نہیں کہ وہ عمر کا معتد بہ حصہ لگا کر قرآن کریم کو حفظ کر سکے ایسے لوگوں کے دلوں کا اس تاکید کو سن کر کیا حال ہو سکتا تھا پس آپ نے ان الفاظ میں ان لوگوں کی دلجوئی کی ہے اوربتایا ہے کہ ثواب قابلیتِ عمل کے لحاظ