حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 345
۲۸۔۔: کے لغوی معنے ارتفاع اور بلندی کے ہیں۔اونٹ کی کوہان کو سَنَامُ الْبَعِیْر کہتے ہیں۔جہاد فی سبیل اﷲ کو حدیث میں زِرْوَۃُ سَنَامِ الْاِسْلَامِ فرمایا ہے تسنیم جنّت میں وہ چشمہ ہے۔جو جنت کے تمام پانیوں کے چشموں سے اشرف اور اعلیٰ ہے۔جنتیوں کو اس چشمے سے بطور گلاب اور کیوڑے کے امتزاج کر کے دیا جاوے گا۔مگر مقرّبین کے لئے خالص یہی سراب ہو گی جیسا کہ عَیْنًا یَّشْرَبُ بِھَا الْمُقَرَّبُوْنَ سے واضح ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۳؍ جون ۱۹۱۲ء) ۳۱۔۔غمز کے معنے پلکوں اور بھؤوں سے اشارہ کرنے کے ہیں اور عیب لگانے کے بھی ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۳؍ جون ۱۹۱۲ء) ۳۲۔۔ثعلبی کا قول ہے کہ اور فَاکِھِیْنَبطاہر دو مختلف لفظ ہیں۔جیسے طامع اور طمع اور فارہ اور فرہ۔مگر معنے دونوں کے ایک ہی ہیں۔تبدیلِ ذائقہ کے لئے میوہ خوری لذیذ کھانوں سے تلذّذ۔غرض قصّہ کہانیوں اور نادلوں سے دل بہلانا۔مزے لینا۔یہ سب میں داخل ہے۔ایسے وقت میں جبکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم مکّہ معظّمہ میں کفّار کو یہ سنار ہے ہیں۔کون یقین کر سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ و الہٖ وسلم اور آپؐ کے اتباع ایسے کامیاب اور بامراد ہو جائیں گے کہ انہیں برے بڑے درجات ملیں گے۔چنانچہ جب صحابہؓ نے عجم و شام کی فتوحات حاصل کیں تو یہ پیشگوئی کس شان سے پوری ہوئی۔بہتے ہوئے چشمے اور دریا اور سبزہ زار اور ہر قسم کے