حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 331 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 331

سُوْرَۃَ التَّکْوِیْرِ مَکِّیَّۃٌ  سورۃ تکویر بھی مکّی سورۃ ہے۔اس میں اوّلاً قیامت کے نشانات اور آکری زمانہ کی آیات کا ذکر کیا ہے۔پھر قرآن مجید کے نزول پر سواہدِ قدرت کو پیش کیا ہے۔اور اس کی سچائی کے دلائل دیئے ہیں۔۲۔۔شمس کے معنے ضیاء الشمس یعنی سورج کی دھوپ کے بھی ہیں اور تکویر معنے لپٹینے کے ہیں قرآن شریف کی سورۃ الفرقان ( آیت ۴۶) ھممَّ جَعنلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْہِ دَلِیْلاً میں کفر کی ظلمات کو مٹانے والی چیز۔نبی کا وجود۔قرآن شریف اور وحی الہٰی کو قرار دیا ہے۔جو بطَور شمس کے ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: می در خشم چوں قمر تابم چو قرص آفتاب کور چشم آناں کہ در انکار ہا افتادہ رند ( ضمیمہ اخبار قادیان ۶؍ جون ۱۹۱۲ء صفحہ ۳۱۰) ۳۔۔نجوم کی روشنی سُورج ہی سے ہے۔جب ضیاء الشمس ہی نہ رہا تو تکدّرِ نجوم لازمی ہے۔نبی کے متّبعین بھی نجوم ہی کی طرح ہوتے ہیں۔جن سے مسافروں کو راہ کا پتہ ملتا ہے۔( ضمیمہ اخبار قادیان ۶؍ جون ۱۹۱۲ء ) ۴۔۔جبال سے مراد سلاطین وغیرہ بڑی بڑی قومیں بھی ہیں۔( ضمیمہ اخبار قادیان ۶؍ جون ۱۹۱۲ء )